logo logo
AI Search

لے پالک غیر محرم بچی جوان ہو جائے تو کہاں رہے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لے پالک غیر محرم بچی بڑی ہوجائے تو کہاں رہے گی ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے اپنے گھریلو معاملات کی وجہ سے اپنی ایک بچی بچپن میں کسی کو پالنے کے لیے دے دی، اب وہ بچی بالغ ہو چکی ہے، اور جو شخص پال رہا تھا، وہ اس بچی کا نامحرم ہے، اسی طرح پالنے والے کی اولاد بھی اس بچی کے نامحرم ہے، اس کی اولاد میں بالغ بیٹے بھی ہیں، پالنے والے نے بچی کو کسی ایسی عورت سے دودھ بھی نہیں پلایا کہ جس سے اس کے لیے یا اس کی اولاد کے لیے محرم بن سکے، اسی طرح کوئی اور بھی ایسا رشتہ نہیں کہ بچی ان کے لیے محرم بن سکے۔ اب اس بچی کا والد اسے اپنے گھر لے آیا ہے، اور بچی کی والدہ بچی کو پالنے والے کے پاس واپس نہیں بھیج رہی کہ وہ سب بچی کے نامحرم ہیں، جبکہ پالنے والا شخص بچی کا مطالبہ کرتا ہے اور اپنی مرضی سے کسی جگہ اس کی شادی کرنا چاہتا ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں بچی کے والدین کے متعلق کیا حکم ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں جس شخص نے اس لڑکی کو گود لیا تھا، جب وہ اور اس کے بالغ بیٹے، اس لڑکی کے لیے محرم نہیں ہیں، بلکہ محض اجنبی ہیں، تواس لڑکی پران سے پردہ کرنا فرض ہے، اور بے پردگی کرنا، یا ان کے ساتھ تنہائی کرنا، شرعا جائز نہیں ہے۔ لہذا بچی کے والدین کے لیے جائز نہیں کہ بچی کو ان کے پاس بھیجیں کہ جس کی بناء پربے پردگی ہو۔ اسی طرح پالنے ولے کو اس بچی کے نکاح کی بھی ولایت نہیں ہے، کہ جب یہ عاقلہ بالغہ ہے، تو بالغہ پر تو باپ وغیرہ کو بھی نکاح کی ولایت جبر نہیں ملتی، اجنبی کو کیسے ملے گی۔

تفصیل اس میں یہ ہے کہ جس بچی یا بچے کو گود لیا جاتا ہے، تو گود لینے سے وہ بچی یا بچہ، گود لینے والے کا حقیقی بیٹا یا بیٹی نہیں بنتے اور نہ فقط گود لینے سے کوئی حرمت والا رشتہ ہی قائم ہوتا ہے، بلکہ جس طرح گود لینے سے پہلے وہ بچہ یا بچی، لینے والے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں، اسی طرح اس کے بعد بھی اجنبی ہی رہتے ہیں۔ اسی طرح گود لینے والے کی اولادکے لیے بھی وہ بچہ اور بچی اجنبی ہی رہتے ہیں۔ ہاں اگر رضاعت وغیرہ کوئی حرمت والا رشتہ قائم ہو جائے توالگ معاملہ ہے، جبکہ ہماری صورت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ لہذا اب یہ گود لینے والا اور اس کے بیٹے سبھی اس لڑکی کے لیے نامحرم ہیں، تو جس طرح اگر یہ گود نہ لیتا تو اس لڑکی کا اس سے اور اس کے بیٹوں سے پردہ ضروری ہوتا، اسی طرح گود لینے کے بعد جب کوئی حرمت والا رشتہ قائم نہیں ہوا تو اب بھی اس لڑکی کا اس شخص سے اور اس کے بیٹوں سے پردہ ضروری ہے۔

فقط گود لینے سے کوئی حرمت والا رشتہ قائم نہیں ہوتا، اس پر دلیل قرآن پاک کی یہ آیت مقدسہ ہے ﴿وَرَبَائِبُكُمُ الّٰتی فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ الّٰتی دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ﴾ ترجمہ: اور (حرام ہوئیں تم پر) ان (تمہاری بیویوں) کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اُن بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں۔ (سورۃ النساء، پ 04، آیت 23)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر نسفی میں ہے "سمى ولد المرأة من غير زوجها ربيباً وربيبة لأنه يربّهما كما يرب ولده في غالب الأمر ثم اتسع فيه فسميابذلك وإن لم يربهما۔۔۔الربيبة من المرأة المدخول بها حرام على الرجل حلال له إذا لم يدخل بها" ترجمہ: عورت کی اس شوہرکے علاوہ دوسرے شوہر سے جو اولاد ہو اسے ربیب اور ربیبہ کا نام دیا گیا کیونکہ یہ دوسرا شوہر عام طور پر ان کی اس طرح پرورش کرتا ہے جیسے اپنی اولاد کی پرورش کرتا ہے، پھر اس لفظ میں وسعت لائی گئی تو ربیب اور ربیبہ کا نام ان کو بھی دیا گیا جن کو دوسرا شوہر پالتا ہے اور ان کو بھی جن کو نہیں پالتا۔ جس عورت سے صحبت ہو چکی، اس کی پہلے شوہر سے جو بیٹی ہے وہ دوسرے شوہر پر حرام ہے اور عورت سے صحبت نہیں ہوئی تواس کی پہلے شوہر سے بیٹی، اس دوسرے شوہر پر حلال ہے۔ (تفسیر نسفی، ، ص 220، بیروت)

در مختارمیں ہے ''وفی الأشباہ: الخلوۃ بالأجنبیۃ حرام'' ترجمہ: اشباہ میں ہے: اجنبیہ کے ساتھ خلوت حرام ہے۔ (در مختارمع ردالمحتار، ج 9، ص607، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے ’’لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج.‘‘ ترجمہ: عاقلہ بالغہ کی مرضی کے خلاف باپ یا حاکم کا کیا ہوا نکاح اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہوگا خواہ وہ عاقلہ بالغہ باکرہ ہو یا ثیبہ۔ اگر ایسا ہو تو اس کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ وہ جائز قرار دے تو جائز ہوگا ورنہ اگر رد کردے تو وہ نکاح باطل ہو جائے گا، سراج وہاج میں یوں ہی ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب النکاح، ج 01، ص 287، کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے "اور محرم وہ ہوتا ہے جس سے کبھی کسی حال میں نکاح نہ ہوسکے اس کی حرمت ابدیہ ہو جیسے باپ، بیٹا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، وغیرہم، اور جو محرم نہیں وہ اجنبی ہے اس سے پردہ کا ویسا ہی حکم ہے جیسے اجنبی سے خواہ فی الحال اس سے نکاح ہوسکتا ہو یا نہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 415، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-10380
تاریخ اجراء: 03 جمادی الاخری 1442 ھ / 17 جنوری 2021ء