logo logo
AI Search

تیرہ سال کے بچے کو دودھ پلانے سے حرمت رضاعت کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تیرہ سال کی عمروالے بچے کو اپنا دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ نے میری خالہ کی بیٹی گود لی تھی، تو اس سے حرمتِ رضاعت کے لئے میری خالہ نے کپ میں مجھے دودھ نکال کر دیا، اور میں نے اپنی خالہ کا کپ میں نکلا ہوا دودھ پیا، جبکہ میری عمر تیرہ سال تھی، تو کیا رضاعت ثابت ہو جائے گی؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے دو سال کے بعد دودھ پلانے کو ناجائز قرار دیا ہے، لیکن پھر بھی کسی نے اسلامی لحاظ سے اڑھائی سال کی عمر تک کسی عورت کا دودھ پیا، تو اس سے رضاعت ثابت ہو جائے گی، اور اڑھائی سال کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔ لہذا آپ کی ذکر کردہ صورت میں حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہو گی اور اس لڑکی نے اگر آپ کی والدہ کا دودھ نہیں پیا یا کوئی اور وجہِ حرمت موجود نہ ہو، تو یہ لڑکی آپ کے لئے غیر محرم ہے، جس سے پردہ کرنا ضروری ہے ۔ اور اتنی عمر میں دودھ پلانے کی وجہ سے آپ کی خالہ گناہ کی مرتکب ہوئی ہیں، جس سے توبہ کرنا ضروری ہے اور آپ اگر بالغ تھے، تو آپ کے لئے بھی یہی حکم ہو گا ۔

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ ترجمہ ٔکنز العرفان: اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، (یہ حکم) اس کے لیے (ہے) جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرة 2، آیت 233)

تفسیر صراط الجنان میں ہے ”آیت کا خلاصہ اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ دو سال مکمل کرانے کا حکم اس کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے؛ کیونکہ دو سال کے بعد بچے کو دودھ پلانا ناجائز ہوتا ہے، اگرچہ اڑھائی سال تک دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 356، 357، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

تنویر الابصار میں علامہ تمرتاشی رحمۃ اللہ تعالی علیہ رضاعت کی تعریف و مدت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”الرضاع هو مص من ثدي آدمية في وقت مخصوص حولان ونصف عنده وحولان عندهما وهو الأصح“ ترجمہ: مخصوص مدت میں عورت کا پستان چوسنا رضاعت ہے، (وہ مدت) امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک اڑھائی سال ہے جبکہ صاحبین رحمۃ اللہ تعالی علیہما کے نزدیک صرف دو سال ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ (تنویر الابصار ودر مختار مع رد المحتار، جلد 4، صفحہ 386، مطبوعہ:کوئٹہ)

اگرچہ دو سال کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں، لیکن اڑھائی سال تک دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو جائے گی، جیسا کہ کنز الدقائق میں ہے ”وحرم به وإن قل في ثلاثين شهرا ما حرم بالنسب“ ترجمہ: اڑھائی سال کے اندر اندر دودھ پینے سے وہ رشتے حرام ہو جائیں گے، جو نسب سے حرام ہوتے ہیں، اگرچہ تھوڑا سا دودھ پیا ہو۔ (کنز الدقائق، صفحہ 111، مکتبہ امام احمد رضا، راولپنڈی)

امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”فالأحوط أن يعمل بقولهما في الفطام وبقوله في التحريم عملا بالاحتياط في الموضعين“ ترجمہ: پس زیادہ احتیاط یہی ہے کہ دودھ چھڑانے میں امام ابو یوسف و امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کے قول پر عمل کیا جائے اور تحریم (حرمت رضاعت ثابت ہونے) کے مسئلے میں امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول پر عمل کیا جائے؛ تاکہ دونوں مواقع میں احتیاط پر عمل ہو جائے۔ (جد الممتار علی رد المحتار، کتاب النکاح، باب الرضاع، ج 4، ص 657، مکتبة المدینه، کراچی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”بچہ کو دو برس تک دودھ پلایا جائے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی اور یہ جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ لڑکی کو دو برس تک اور لڑکے کو ڈھائی برس تک پلا سکتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ یہ حکم دودھ پلانے کا ہے اور نکاح حرام ہونے کے لیے ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو برس کے بعد اگرچہ دودھ پلانا حرام ہے مگر ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلا دے گی، حرمت نکاح ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر پیا تو حرمت نکاح نہیں، اگرچہ پلانا جائز نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 36، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5268

تاریخ اجراء: 26 صفر المظفر 1448ھ/  10اگست 2026ء