logo logo
AI Search

رضاعی خالہ سے نکاح کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

جس عورت کا دودھ پیا اس کی سگی بہن سے شادی کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

مدتِ رضاعت میں جس عورت کا دودھ پیا اس کی بہن دودھ پینے والے کے لئے رضاعی خالہ ہے اور اور جس طرح سگی خالہ سے نکاح حرام ہے اسی طرح رضاعی خالہ سے بھی حرام ہے کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں، لہٰذا دودھ پلانے والی عورت کی بہن سے دودھ پینے والے کا نکاح نہیں ہوسکتا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: ”وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃ“ ترجمہ کنز الایمان: (حرام ہوئیں تم پر) دودھ کی بہنیں۔ (پارہ 04، سورۃ النساء، آیت نمبر 23)

مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں صدر الافاضل مولانا مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: ”دودھ پلانے والی کو شیر خوار کی ماں اور اس کی لڑکی کو شیر خوار کی بہن فرمایا اسی طرح دودھ پلائی کا شوہر شیر خوار کا باپ اور اس کا باپ شیر خوار کا دادا اور اس کی بہن اس کی پھوپھی اور اس کا ہر بچہ جو دودھ پلائی کے سوا اور کسی عورت سے بھی ہو خواہ وہ قبل شیر خواری کے پیدا ہوا یا اس کے بعد وہ سب اس کے سوتیلے بھائی بہن ہیں اور دودھ پلائی کی ماں شیر خوار کی نانی اور اُس کی بہن اُس کی خالہ۔ (تفسیر خزائن العرفان، ص 160، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں جیساکہ بخاری شریف میں ہے: ”عن ابن عباس رضى اللہ عنهما قال قال النبى صلى اللہ عليه و سلم يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب“ ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت (دودھ کے رشتوں) سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ (صحیح البخاری، جلد 3، صفحہ 170، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)

فتاوٰی عالمگیری وغیرہ کتبِ فقہیہ میں کچھ یوں مذکور ہے: ”و أخو المرضعة خاله و أختها خالته“ یعنی دودھ پلانے والی عورت کا بھائی بچے کا ماموں کہلائے گا اور اس کی بہن بچے کی خالہ کہلائے گی۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب النکاح، ج 01، ص 343،مطبوعہ پشاور)

النتف فی الفتاوٰی میں مذکور ہے: ”فاما الحرام المؤبد فعلی وجھین احدھما نسب و الآخر سبب فاما النسب فھو الرحم المحرم و ھم اربعۃ اصناف ۔ ۔ ۔ الصنف الرابع: الاعمام و العمات و الاخوال و الخالات۔ ۔ ۔ فأما الرضاع فيحرم منه ما يحرم بالنسب من ذوی الرحم المحرم“ ترجمہ: بہر حال ابدی حرمت دو وجہوں سے ہوتی ہے ان میں سے ایک وجہ نسب ہے جبکہ دوسری وجہ سبب ہے۔ نسب سے جو عورتیں حرام ہیں وہ ذو رحم محارم عورتیں ہیں جن کی چار اقسام ہیں۔ ۔ ۔ چوتھی قسم: چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ ہیں۔ ۔ ۔ رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو ذو رحم محارم کےرشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ (النتف فی الفتاوٰی، ص 253، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ملتقطاً)

فتاوٰی رضویہ میں ہے: ”سوتیلی خالہ کہ حرام ہے اس کے معنی حقیقی یارضاعی ماں کی سوتیلی بہن۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 11، ص 340، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2580
تاریخ اجراء: 11 جمادی الاولٰی 1447ھ / 03 نومبر 2025ء