logo logo
AI Search

دو سال کے بعد بچے کو دودھ پلانا اور حضرت سالم والی روایت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دو سال کی عمر کے بعد بچے کو دودھ پلانے کے متعلق حضرت سالم والی روایت کی وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میری شادی 2019 میں ہوئی، لیکن میری اولاد نہیں ہوئی، ہمیں کہہ دیا گیا تھا کہ آپ کی اولاد نہیں ہو سکتی، اسی وجہ سے ہم نے بچہ گود لینے کا سوچا، میں نے فیملی سے بچہ گود نہیں لیا، میں نے چائلڈ پروٹیکشن لاہور سے قانونی طریقے سے بچہ گود لیا، اس کے والدین کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ اب آپ سے سوال یہ کرنا چاہ رہی ہوں کہ ابھی اس کی عمر دو سال چھ ماہ ہے، اسلام میں گو دلیا ہوا بچہ بالغ ہونے کے بعد نامحرم ہے، اس لیے میں چاہتی ہوں کہ وہ میرا محرم بن جائے، میری بھابی دودھ پلانے کے لیے تیار ہے، مگر تین ماہ بعد، یعنی نومبر میں ان کا بچہ پیدا ہوگا، تب تک اس بچے کی عمر دو سال نو ماہ ہو جائے گی، تو دو سال کی عمر کے بعد دودھ پلانے کا کیا حکم ہوگا؟ کیا حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہ والی حدیث کی روشنی میں اس کی اجازت ہو گی؟ اس بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں اس بچے کی عمر چاند کے حساب سے اڑھائی سال ہوچکی ہے، تو اب اس کو دودھ پلانا بھی حرام ہے، اور اس سے دودھ کا رشتہ بھی کسی صورت قائم نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ شرعی اصولوں کے مطابق بچے کو چاند کے حساب سے دوسال کی عمر تک دودھ پلانا جائز ہے، اس کے بعد دودھ پلانا حرام ہے، تاہم! اڑھائی سال کی عمر ہونے سے پہلے دودھ پلادیا جائے، تو رضاعت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے، لیکن جب بچہ اڑھائی سال کا ہو جائے، تو اس کے بعد دودھ پلانے سے رضاعت کارشتہ نہیں بنتا۔

اور جہاں تک حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کی بات ہے، تو فقہائے کرام نے اس کے بارے میں فرمایا ہےکہ:

وہ حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے خاص حکم تھا، کسی اور کے لیے اس کو دلیل بنانا جائز نہیں، نیز اڑھائی سال کے بعد حرمت رضاعت ثابت ہونے کا حکم منسوخ ہو گیا ہے، اور منسوخ پر عمل کرنا جائز نہیں۔

مدتِ رضاعت کے متعلق تنویر الابصار و در مختار میں ہے، (واللفظ فی الھلالین لتنویر) "(ھو فی وقت مخصوص، حولان و نصف عندہ و حولان) فقط (عندھما و ھو الاصح) فتح، و بہ یفتی کما فی تصحیح القدوری۔ملخصا" ترجمہ: یہ دودھ پلانا مخصوص وقت میں ہے، امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اڑھائی سال اور صاحبین رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک صرف دو سال، اور یہ اصح ہے۔ فتح۔ اور اسی پر فتوی دیا جاتا ہے جیسا کہ تصحیح القدوری میں ہے۔ (تنویر الابصار ودر مختار، جلد 4، صفحہ 387، مطبوعہ: کوئٹہ)

مجمع الانہر میں ہے ”الارضاع بعد مدتہ حرام لانہ جزء الآدمی و الانتفاع بہ غیر ضرورۃ حرام علی الصحیح“ ترجمہ: دودھ پلانا اس کی مدت گزرنے کے بعد حرام ہے، کیونکہ یہ آدمی کا جز ہے اور صحیح قول کے مطابق آدمی کے جز سے بلاضرورت نفع اٹھانا حرام ہے۔ (مجمع الانھر، جلد 1، صفحہ 552، مطبوعہ: کوئٹہ)

  بہار شریعت میں ہے ”بچہ کو دو برس تک دودھ پلایا جائے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی اور یہ جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ لڑکی کو دو برس تک اور لڑکے کو ڈھائی برس تک پلا سکتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ یہ حکم دودھ پلانے کا ہے اور نکاح حرام ہونے کے لئے ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو برس کے بعد اگرچہ دودھ پلانا حرام ہے، مگر ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلا دے گی، حرمتِ نکاح ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر پیا، تو حرمتِ نکاح نہیں اگرچہ پلانا جائز نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 2، صفحہ 36، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حضرت سالم والی حدیث کے متعلق ملک العلماء بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں: ”وأما حديث سالم فالجواب عن التعلق به من وجهين أحدهما يحتمل أنه كان مخصوصا بذلك يدل عليه ما روي أن سائر أزواج رسول اللہ - صلى اللہ عليه وسلم - أبين أن يدخل عليهن بالرضاع في حال الكبر أحد من الرجال وقلن: ما نرى الذي أمر به رسول اللہ - صلى اللہ عليه وسلم - سهلة بنت سهيل إلا رخصة في سالم وحده فهذا يدل على أن سالما كان مخصوصا بذلك، وما كان من خصوصية بعض الناس لمعنى لا نعقله لا يحتمل القياس، ولا نترك به الأصل المقرر في الشرع.والثاني: أن رضاع الكبير كان محرما ثم صار منسوخا بما روينا من الأخبار“

ترجمہ: اور جہاں تک حضرت سالم والی حدیث کا تعلق ہے، تو اس سے استدلال کا جواب دو وجوہ سے ہے :پہلی وجہ یہ ہے کہ احتمال ہے کہ یہ حکم خاص طور پر سالم ہی کے لیے تھا۔ اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی دیگر تمام ازواجِ مطہرات نے اس بات سے انکار کیا کہ رضاعتِ کبیر کی بنا پر کسی بالغ مرد کو اپنے پاس آنے دیں، اور انہوں نے فرمایا: ہم یہ نہیں سمجھتیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے سہلہ بنت سہیل کو جو حکم دیا تھا، وہ صرف سالم کےحق میں رخصت تھی۔ پس یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سالم کے ساتھ یہ حکم خاص تھا، اور جو حکم کسی شخص کی خصوصیت ہو، کسی ایسی وجہ سے جسے ہم نہ سمجھتے ہوں، اس پر قیاس کرنا درست نہیں، اور نہ ہی اس کی بنا پر شریعت میں مقرر اصل کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ رضاعتِ کبیر کا حکم پہلے ثابت تھا، پھر ہماری بیان کردہ روایات کے مطابق منسوخ ہو گیا۔ (بدائع الصنائع، جلد 3، صفحہ 402، مطبوعہ:کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5177
تاریخ اجراء: 15 محرم الحرام 1448ھ/01 جولائی 2026ء