حج افراد میں قربانی رمی اور حلق میں ترتیب کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج افراد والے پر رمی، قربانی اور حلق میں ترتیب ضروری ہے یا نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا حجِ افراد کرنے والے پر بھی رمی، قربانی اور حلق میں ترتیب واجب ہے؟
جواب
حج افراد کرنے والے پر چونکہ قربانی واجب نہیں، بلکہ اس کیلئے قربانی کرنا مستحب ہے، لہذا اگر وہ قربانی کرے تو اس کیلئے بہتر یہ ہے کہ پہلے رمی پھر قربانی اور پھر حلق یا تقصیر کرے اور اگر اُس نے اِس ترتیب کے خلاف کیا یعنی رمی سے پہلے یا حلق کے بعد قربانی کرلی تو بھی اُس پر کچھ لازم نہیں ہوگا۔ البتہ رمی اور حلق میں مُفرِد پر بھی ترتیب واجب ہے یعنی حج افراد کرنے والا بھی پہلے رمی کرے گا پھر حلق یا تقصیر، اگر اُس نے ان دو واجبوں میں ترتیب کی خلاف ورزی کی یعنی رمی سے پہلے حلق یا تقصیر کرلیا تو اُس پر دم واجب ہوجائے گا۔
مفرد کیلئے قربانی مستحب ہے اور اس کیلئے قربانی کو حلق سے پہلے کرنا بھی مستحب ہے، جیساکہ لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے: (إن کان مفردا یستحب لہ الذبح ... و تقديم الذبح علی الحلق مستحب للمفرد) ملتقطاً۔ ترجمہ: اگر حج کرنے والا مفرد ہو تو اس کیلئے قربانی مستحب ہے اور مفرد پر حلق سے پہلے قربانی کرنا (بھی) مستحب ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، فصل فی الذبح، صفحہ 249، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
مفرد نے رمی سے پہلے یا حلق کے بعد قربانی کرلی تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں، جیسا کہ بنایہ شرح ہدایہ میں ہے: ’’إذا ذبح المفرد قبل الرمي، أو حلق قبل الذبح حيث لا يجب علیه شيء؛ لأن النسك لا يتحقق في حقه؛ لأن المفرد يذبح إن أحب، و لا يجب عليه‘‘ ترجمہ: جب مفرد رمی سے پہلے قربانی کرلے یا قربانی سے پہلے حلق کرلے تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا، کيونكہ اس کے حق میں قربانی ثابت ہی نہیں، کیونکہ مفرد (کیلئے حکم یہ ہے کہ) اگر چاہے تو قربانی کرے، قربانی کرنا اُس پر واجب نہیں۔ (البنایہ شرح الھدایہ، جلد 5، باب الجنایات، صفحہ 270، مطبوعہ: ملتان)
مفرد پر رمی اور حلق میں ترتیب واجب ہے، چنانچہ رد المحتار میں ہے: ’’المفرد لا ذبح علیہ فیجب علیہ الترتیب بین الرمی و الحلق فقط‘‘ ترجمہ: مفرد پر چونکہ قربانی واجب نہیں لہذا اس پر صرف رمی اور حلق میں ہی ترتیب واجب ہے۔ (رد المحتار، جلد 3، باب الجنایات، صفحہ 669، مطبوعہ کوئٹہ)
مفرد نے رمی سے پہلے حلق کرلیا تو دم لازم ہوجائے گا، جیسا کہ لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے: (و لو حلق المفرد قبل الرمی فعلیہ دم) ملتقطاً۔ ترجمہ: اور اگر مفرد نے رمی سے پہلے حلق کرلیا تو اُس پر دم لازم ہوجائے گا۔ (لباب المناسک مع شرحہ، فصل فی ترک الترتیب بین افعال الحج، صفحہ 396، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1709
تاریخ اجراء: 16 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 05 جون 2023ء