حج تمتع میں احرام حج سے پہلے کی گئی سعی کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حجِ تمتع میں حج کا احرام باندھنے سے پہلے کی گئی سعی کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حج تمتع کرنے والے نے عمرہ کے بعد احرام کھول دیا، اب وہ حج کا احرام باندھنے سے پہلے اگر نفلی طواف کرے اور اُس کے بعد حج کی سَعی کرلے، تو کیا یہ سَعی کفایت کرے گی؟
جواب
حج تمتع کرنے والے نے عمرہ کے بعد احرام کھول دیا اور اب وہ حج کا احرام باندھنے سے پہلے ہی نفلی طواف اور اُس کے بعد سَعی کر لے، تو یہ سَعی، حج کی سَعی کے لیے کفایت نہیں کرے گی، بلکہ طوافِ زیارت کے بعد دوبارہ حج کی سَعی کرنا ضروری ہوگا، کیونکہ فقہاء نے جو رخصت بیان فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ حج کا احرام باندھ کر نفلی طواف اور اس کے بعد حج والی سعی کرلے، یہ نہیں کہ احرام باندھے بغیر ہی نفلی طواف اور سعی کرلے۔
مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ فقہائے کرام نے سَعی کی چند شرائط بیان کی ہیں، اُن میں سے حج کی سَعی کے لیے شرط ہے کہ وہ حالتِ احرام میں ہو، لہذا متمتع نے اگر طوافِ زیارت کے بعد سَعی کرنے کی بجائے، پہلے ہی سَعی سے فارِغ ہونا ہو، تو پھر اُس کے لیے حکم یہ ہوتا ہے کہ وہ حج کا احرام باندھنے کے بعد نفلی طواف کرے اور اُس کے بعد سَعْی کرلے۔ اِس صورت میں کی جانے والی سَعی حالتِ احرام میں ہوگی، لہذا یہ سَعی طوافِ زیارت کے بعد والی سَعی کے حق میں کافی بھی ہوجائے گی، جبکہ پوچھی گئی صورت میں حج کا احرام باندھنے سے پہلے طواف اور سَعی کرنے کا ذکر ہے، لہذا اِس طرح کی گئی سَعی کفایت نہیں کرے گی، کہ یہ سَعی احرام کے بغیر ہوگی۔
حج میں تقدیم السعی علی الوقوف کی صورت میں صحتِ سَعی کے لیے احرام کا ہونا شرط ہے، چنانچہ لباب المناسک میں ہے: و اما وجود الاحرام حالۃ السَعْی فان کان سَعْیہ للحج قبل الوقوف فیشترط وجودہ ترجمہ: سَعی کی حالت میں احرام کے پائے جانے کے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ اگر اُس کی سَعی حج کے لیے اور وقوفِ عرفات سے پہلے ہو، تو اُس سَعی میں احرام کا پایا جانا شرط ہے۔ کہ اِس احرام کے بغیر سَعی درست نہ ہوگی (لباب المناسک مع شرحہ، صفحہ 246، مطبوعہ المکۃ المکرمہ)
تنبیہ! مذکورہ بالا جزئیہ ومسئلہ اُس صورت میں ہے کہ جب وقوفِ عرفات سے پہلے ہی سعی کر کے فارِغ ہونا ہو، تو احرام شرط ہے، البتہ اگر کوئی پہلے سعی نہ کرے، بلکہ طوافِ زیارت کے بعد ہی کرنا چاہے، تو اُس سعی میں احرام کا ہونا شرط نہیں، بلکہ احرام نہ ہونا سنت ہے، چنانچہ اِسی کتاب ”لباب المناسک“ میں چند سطور بعد ہے: ان کان سعیہ للحج بعد الوقوف فلایشترط وجود الاحرام بل یسن عدمہ ترجمہ: اگر حج کی سعی وقوف وغیرہ کے بعد ہو، تو اُ س میں احرام کا ہونا شرط نہیں، بلکہ احرام نہ ہونا سنت ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، صفحہ 247، مطبوعہ المکۃ المکرمہ)
متمتع کے حق میں تقدیمِ سعی کے متعلق دوسری جگہ بصراحت لکھا ہے: ان اراد تقدیم السَعْی علی طواف الزیارۃیتنفل بطواف بعد الاحرام بالحج، یضطبع فیہ و یرمل ثم یسعی بعدہ ترجمہ: اگر (متمتع) سَعی کو طوافِ زیارت سے پہلے کرنے کا ارادہ رکھے، تو اسے چاہیے کہ حج کا احرام باندھنے کے بعد نفلی طواف کرے، اُس میں اضطباع اور رمل بھی کرلے اور پھر اُس کے بعد سَعی کر لے۔ (اِس طرح وہ پہلے ہی سَعی سے فارِغ ہو جائے گا۔) (لباب المناسک مع شرحہ، صفحہ 265، مطبوعہ المکۃ المکرمۃ)
امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مفرد و قارن تو حج کے رمل و سَعی سے طواف قدوم میں فارغ ہو لیے، مگر متمتع نے جو طواف وسَعی کیے، وہ عمرہ کے تھے، حج کے رمل و سَعی اُس سے ادا نہ ہوئے اور اس پر طواف قدوم ہے نہیں کہ قارِن کی طرح اُس میں یہ امور کرکے فراغت پالے، لہذا اگر وہ (متمتع) بھی پہلے سے فارغ ہو لینا چاہے، تو جب حج کا احرام باندھے گا اس کے بعد ایک نفل طواف میں رمل و سَعی کرے اب اسے طواف زیارت میں اِن کی حاجت نہ ہوگی۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 744، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اِسی طرح صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: اگر وہ (متمتع) بھی پہلے سے فارغ ہولینا چاہے، تو جب حج کا احرام باندھے اس کے بعد ایک نفل طواف میں رمل و سَعی کرلے اب اسے بھی طوافِ زیارت میں ان امور کی حاجت نہ ہوگی۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1112، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Sar-7881
تاریخ اجراء: 18 ذو القعدۃ الحرام 1443ھ / 18 جون 2022ء