logo logo
AI Search

حج قران کرنے والا حج و عمرہ کے درمیان نفلی طواف کر سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج قران کرنے والے کا حج سے پہلے نفلی طواف کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

قارن، حج و عمرہ کے درمیان نفلی طواف کر سکتا ہے؟

جواب

قارن، حج سے پہلے جتنے چاہے نفلی طواف کر سکتا ہے۔ بلکہ باہر والوں کے لیے اسے سب سے بہتر عبادت قرار دیا گیا ہے اور یہ یاد رہے کہ اس نفلی طواف میں نہ اضطباع ہوگا، نہ رمل اور نہ اس کے بعد سعی۔ ہاں ہر سات پھیروں پر طواف کا دوگانہ ادا کرنا ضروری ہوگا۔

فتاوی رضویہ میں ہے اب یہ سب حجاج، قارن، متمتع، مفرد، کوئی ہو، کہ منیٰ جانے کے لیے مکہ معظمہ میں آٹھویں تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں، ایام اقامت میں جس قدر ہوسکے نرا طواف بے اضطباع و رمل و سعی کرتےر ہیں، باہر والوں کے لیے یہ سب سے بہتر عبادت ہے اور ہر سات پھیروں پر مقام ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام میں دو رکعت پڑھیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 744، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1734
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 09 جون 2023ء