میقات سے باہر نہیں گئے تو مکہ آنے کے لئے احرام باندھنا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرہ کے بعد میقات کے اندر رہتے ہوئے حرم سے باہر گئے تو مکہ واپسی پر احرام کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص عمرہ کرنے کے لئے مکہ گیا۔ عمرہ وغیرہ کرنے کے بعد حرم سے باہر کسی کام سے چلا جائے لیکن میقات سے باہر نہ جائے، تو واپس مکہ مکرمہ جانے کے لئے احرام باندھنا لازم ہوگا یا نہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر یہ شخص عمرہ کرنے کے بعد کسی بھی کام کے لئے حرم سے باہر چلا گیا، لیکن میقات سے باہر نہ گیا اور واپسی مکۃ المکرمہ آنے پر اس کا حج یا عمرہ کرنے کا کوئی ارادہ و نیت نہیں، تو اس پر احرام باندھنا لازم نہیں ہے، احرام باندھے بغیر بھی واپس مکۃ المکرمہ آنا اس کے لئے جائز ہے، ہاں اگر واپسی میں عمرہ یا حج کا ارادہ ہے، تو اب حرم میں داخل ہونے سے پہلے احرام باندھنا ضروری ہوگا، اسی طرح اگر میقات سے باہر چلا گیا، تو اب بلا احرام حرم میں داخل ہونا، جائز نہیں ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: ”المکی اذا خرج الی الحل للاحتطاب او الاحتشاش ثم دخل مکۃ یباح لہ الدخول بغیر احرام و کذلک الآفاقی اذا صار من اھل البستان“ یعنی مکہ مکرمہ کا رہائشی لکڑیاں چننے یا گھاس جمع کرنے حل کی طرف نکلا پھر مکہ میں داخل ہوا تواس کے لیے بغیر احرام داخل ہونامباح ہے، یونہی آفاقی شخص جب اہل بستان والوں میں ہوجائے (تو اس کا حل سے مکہ میں بغیراحرام داخل ہونا جائز ہے۔) (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 221، مطبوعہ: پشاور)
تنویر الابصار ودرِ مختار میں ہے: ”(حل لاھل داخلھا) یعنی لکل من وجد فی داخل المواقیت (دخول مکۃ غیر محرم) ما لم یرد نسکا“ یعنی داخلِ میقات شخص یعنی ہر وہ شخص جو میقات کے اندر موجود ہو، اس کے لئے بغیر احرام مکہ میں داخل ہونا، جائز ہے بشرطیکہ اس کا حج یا عمرہ کرنے کا ارادہ نہ ہو۔ (الدر المختار علی تنویر الابصار، جلد 3، صفحہ 553 ۔ 554، مطبوعہ: کوئٹہ)
علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ ”ما لم یرد نسکا“ کے تحت ارشاد فرماتے ہیں: ”اما ان ارادہ وجب علیہ الاحرام قبل دخولہ ارض الحرم فمیقاتہ کل الحل الی الحرم“ یعنی بہر حال اگر اس کا حج یا عمرہ کرنے کا ارادہ ہو، تو زمینِ حرم میں داخل ہونے سے پہلے اس پر احرام واجب ہے، پس اس کی میقات تمام حِل ہے حرم تک۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 554، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مکہ والے اگر کسی کام سے بیرونِ حرم جائیں، تو انہیں واپسی کے لئے احرام کی حاجت نہیں اور میقات سے باہر جائیں، تو اب بغیر احرام واپس آنا انہیں جائز نہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-12638
تاریخ اجراء: 06 جمادی الثانی 1444ھ / 30 دسمبر 2022ء