چچا زاد بہن کے بیٹے کے ساتھ عمرہ پر جانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کا کزن کے بیٹے کے ساتھ عمرہ پرجانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مجھے عمرہ پر جانا ہے، کیا میں اپنی چچا زاد بہن کے 23 سالہ بیٹے کے ساتھ عمرہ پر جاسکتی ہوں؟
جواب
آپ اپنی چچا زاد بہن کے بیٹے کے ساتھ سفر نہیں کر سکتیں، کیونکہ وه آپ کا محرم نہیں۔ جس طرح چچا زاد بھائی بہن آپس میں نامحرم ہوتے ہیں کہ ان کی آپس میں ایک دوسرے سے شادی ہوسکتی ہے اسی طرح ان کی اولاد سے بھی ہوسکتی ہے لہذا ان کی اولاد بھی نامحرم ہوئی۔ شریعت مطہرہ میں کسی بھی عورت کو شوہر یا محرم کے بغیر شرعی مسافت یعنی 92 کلومیٹر کی مسافت پر واقع کسی جگہ جانا حرام ہے، خواہ وہ سفر حج و عمرہ کی غرض سے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے ہو۔
صحیح مسلم میں ہے: ”عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لا یحل لامرأۃ تؤمن باللہ و الیوم الاخر ان تسافر سفراً یکون ثلاثۃ ایام فصاعداً الا و معھا ابوھا او ابنھا او زوجھا او اخوھا او ذو محرم منھا“ ترجمہ: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرنا حلال نہیں ہے، مگر جبکہ اس کے ساتھ اس کا باپ یا بیٹا یا شوہر یا بھائی یا اس کا کوئی محرم ہو۔ (الصحیح لمسلم، باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ، جلد 1، صفحہ 434، مطبوعہ کراچی)
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: عورت اگرچہ عفیفہ (یعنی پاکدامن) یا ضعیفہ (یعنی بوڑھی) ہو، اسے بے شوہر یا محرم سفر کو جانا، حرام ہے۔ اگر چلی جائے گی، گنہگار ہوگی، ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 706، 707، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بڑھیا۔ محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لئے اس عورت کا نکاح حرام ہے، خواہ نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو، جیسے باپ، بیٹا، بھائی وغیرہ یا دودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو، جیسے رضاعی بھائی، باپ، بیٹا وغیرہ یا سسرالی رشتہ سے حرمت آئی، جیسے خسر، شوہر کا بیٹا وغیرہ۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 06، صفحہ 1044، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-2075
تاریخ اجراء: 29 ربیع الاول 1445ھ / 16 اکتوبر 2023ء