logo logo
AI Search

طواف کے دوران کعبہ کو دیکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طواف کرتے ہوئے سینہ پھیرے بغیر نگاہیں کعبہ کی طرف رکھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

طواف کرتے ہوئے اگر سینہ کعبہ کی طرف کئے بغیرصرف چہرہ گھما کر نظریں کعبہ کی طرف رکھیں، تو یہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

طواف کرتے ہوئے درست طریقہ یہ ہے کہ نگاہیں اپنے چلنے کی جگہ رکھی جائیں، لہذا کعبہ کی طرف چہرہ پھیر کر دیکھنے کے بجائے جس سمت چل رہے ہوں اسی سمت نظریں رکھیں، اس انداز میں طواف کرنے سےرقت، اور خشوع و خضوع زیادہ ہوگا۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ”سن للطائف أن لا يجاوز بصره محل مشيه، لانہ الادب الذی یحصل بہ اجتماع القلب“ یعنی: طواف کرنے والے کے لیے مسنون ہے کہ وہ اپنی نگاہ اپنے چلنے کی جگہ سے متجاوز نہ کرے، اس لیے کہ یہی مؤدبانہ طریقہ ہے جس سے دل کی اجتماعیت حاصل رہتی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 69، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-800
تاریخ اجراء: 17 جمادی الاوّل 1444ھ / 12 دسمبر 2022ء