کیا سعی یا طواف کے دوران آرام کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
طواف یا سعی کے دوران کچھ دیر آرام کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ طواف یا سعی کے دوران تھکن کی وجہ سے کچھ دیر آرام کر سکتے ہیں؟
سائلہ: امِّ ہلال رضا (لائنز ایریا، کراچی)
جواب
طواف اور سعی کے پھیرے لگانے میں ان کا پے درپے ہونا سنّت ہے اور بلا عذر ان میں فاصلہ کرنا مکروہ ہے۔ عذر سے مراد وضو کرنا یا جماعت قائم ہونا یا جنازہ آجانا یا پیشاب پاخانہ کی حاجت ہونا یا تھک جانا ہے۔ لہٰذا اگر طواف یا سعی کے چند چکر لگانے کے بعد تھکاوٹ محسوس ہوئی اور کچھ دیر آرام کرلیا پھر جہاں سے سعی یا طواف چھوڑا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کر دیا تو جائز ہے البتہ اگر بہت زیادہ فاصلہ کردیا ہو تو شروع سے کرنا مستحب ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ اگست 2017ء