logo logo
AI Search

حج یا عمرہ میں دم کب تک ادا کر سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج کا دم کب تک ادا کرسکتے ہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

حج کرنے میں اگر دم لازم آئے تو کتنے وقت میں اسے ادا کرسکتے ہیں نیز دم میں بکرا دینا لازم ہے یا بکری بھی دے سکتے ہیں؟

جواب

اگر کسی وجہ سے دم لازم آئے تو اس کی ادائیگی کے لیے دم کے جانور کا حرم مکہ میں ذبح ہونا ضروری ہے، البتہ! وقت کی کوئی قید نہیں، فوری ادا نہ کرسکیں تو بعد میں بھی ادا کرسکتے ہیں لیکن جلد ازجلد ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ زندگی اور موت کا کوئی پتا نہیں۔ اور دم میں بکرا یا بکری، دونوں میں سے کوئی بھی دے سکتے ہیں، البتہ یہ خیال رہے کہ! جو شرائط قربانی کے جانور میں پائی جانا ضروری ہیں، وہی دم والے جانور میں بھی ضروری ہیں۔

لباب المناسک میں ہے: ”اعلم ان الکفارات کلھا واجبۃ علی التراخی فلا یاثم بالتاخیر عن اول وقت الامکان و یکون مودیا لا قاضیا فی ای وقت ادیٰ و انما یتضیق علیہ الوجوب فی آخر عمرہ فی وقت یغلب علی ظنہ ان لو لم یؤدہ لفات فان لم یؤد فیہ فمات اثم و یجب علیہ الوصیۃ بالاداء و الافضل تعجیل اداء الکفارات“ ترجمہ: جان لو کہ تمام کفارے علی التراخی واجب ہیں لہذا ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود تاخیر کرنے پر گنہگار نہیں ہوگا، جب بھی ادا کرے گا، ادا ہی ہو گا، قضا نہیں ہوگا البتہ عمر کے آخری حصے میں جب اسے موت کا ظن غالب ہوجائے کہ اب ادا نہ کیا تو کفارہ ذمہ پر باقی رہ جائے گا تو اسی وقت کفارہ ادا کرنے کا وجوب متوجہ ہوگا اور بغیر ادا کیے فوت ہوگیا تو گنہگار ہوگا اور کفارہ ادا کرنے کی وصیت کرنا اس پر واجب ہے۔ افضل یہ ہے کہ کفارے جلدی ادا کردے۔ (لباب المناسک، باب فی جزاء الجنایات، ص 542، مکۃالمکرمۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-945
تاریخ اجراء: 03 محرم الحرام 1443ھ / 03 اگست 2022ء