رمی کا وقت شروع ہونے سے پہلے رمی کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
12 ذو الحجہ كی رمی ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی حاجی نے 12 كی رمی ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے کرلی یعنی 11 بجے کرلی اور پھر واپس مکہ مکرمہ اپنے ہوٹل آگیا تو اب اس کے لئے کیا حکم ہوگا؟
جواب
گیارہ اور بارہ ذو الحجہ کی رمی کا وقت، ظہر کا وقت شروع ہونے سے لے کر اگلے دن کی فجر کا وقت شروع ہونے تک ہوتا ہے البتہ بلا عذرسورج غروب ہونے کے بعد رمی کرنا مکروہ ہے۔ لہذا اگر کسی حاجی نے 12 کی رمی، ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے کرلی تو اس کی وہ رمی ادا ہی نہیں ہوئی، اُس پر لازم ہے کہ اگلے دن یعنی 13 ذو الحجہ کی فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے رمی کرلے، اگر ایسا کرلیتا ہے تو اُس پر دم لازم نہیں ہوگا اور اگر اس نے 12 کی رمی اپنے وقت میں نہیں کی اور وقت ختم ہوگیا تواب اس شخص پر 12 کی رمی کی قضا اور دم، دونوں لازم ہیں، اور رمی کی قضا کا وقت 13 ذو الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے، لہذا 13 کی غروب سے پہلے اُس رمی کی قضا کرلے، اور اگر رمی کی قضا نہیں کی اور 13 ذو الحجہ کا غروب آفتاب ہوگیا تو اب قضا ساقط ہوگئی اور دم باقی ہے وہ ادا کرنا ہوگا۔
گیارہ اور بارہ کی رمی کے وقت کے متعلق، علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں ارشاد فرماتے ہیں: وقت رمی الجمار الثلاث فی الیوم الثانی و الثالث من ایام النحر بعد الزوال فلا یجوز قبلہ فی المشھور، و الوقت المسنون فیھما یمتد من الزوال الی غروب الشمس، و من الغروب الی الطلوع وقت مکروہ‘‘ ترجمہ: ایام نحر کے دوسرے اور تیسرے دن، تینوں جمروں کی رمی کا وقت زوال کے بعد سے شروع ہوتا ہے لہذا مشہور قول کے مطابق زوال سے پہلے رمی جائز نہیں، اور ان دونوں دنوں میں رمی کا مسنون وقت زوال سے غروب آفتاب تک ہے اور غروب آفتاب سے اگلے دن کی طلوع فجر تک مکروہ وقت ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، مطلب: فی رمی الجمرات الثلاث، جلد 3، صفحہ 619، دار المعرفۃ، بیروت)
اگر کوئی شخص کسی دن کی رمی، اس کے وقت میں ادا نہ کرے تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں، جیسا کہ لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: (و اذا طلع الفجر فقد فات وقت الاداء و بقی وقت القضاء الی آخر ایام التشریق فلو أخرہ) أی الرمی (عن وقتہ) أی المعین لہ فی کل یوم (فعلیہ القضاء و الجزاء) و ھو لزوم الدم (و یفوت وقت القضاء بغروب الشمس من الرابع) ترجمہ: اور جب فجر طلوع ہوگئی تو رمی کی ادائیگی کا وقت ختم ہوگیا اور اب ایام تشریق کے آخر (یعنی غروب آفتاب) تک قضا کا وقت باقی ہے، لہذا اگر کسی نے رمی کو اس کے معینہ وقت سے مؤخر کیا جو ہر دن میں اس کیلئے مقرر کیا گیا تھا، تو ایسے شخص پر اُس رمی کی قضا اور کفارہ یعنی دم کی ادائیگی لازم ہے اور قضا کا وقت چوتھے دن (یعنی 13 ذو الحجہ) کے غروب آفتاب سے ختم ہوجاتا ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب رمی الجمار و احکامہ، فصل فی وقت الرمی فی الیومین، صفحہ 267، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: گیارہویں، بارھویں (کی رمی) کا وقت آفتاب ڈھلنے سے صبح تک ہے مگر رات میں یعنی آفتاب ڈوبنے کے بعد مکروہ ہے ۔۔۔ لہٰذا اگر پہلی تین تاریخوں ۱۰، ۱۱، ۱۲ کی رَمی دن میں نہ کی ہو تو رات میں کر لے پھر اگر بغیر عُذر ہے تو کراہت ہے، ورنہ کچھ نہیں اور اگر رات میں بھی نہ کی تو قضا ہوگئی، اب دوسرے دن اس کی قضا دے اور اس کے ذمہ کفارہ واجب اور اس قضا کا بھی وقت تیرھویں کے آفتاب ڈوبنے تک ہے، اگر تیرھویں کو آفتاب ڈوب گیا اور رَمی نہ کی تو اب رَمی نہیں ہوسکتی اور دَم واجب۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 6، صفحہ 1146 - 1147، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1801
تاریخ اجراء: 17 ذو الحجۃ الحرام 1444ھ / 06 جولائی 2023ء