logo logo
AI Search

کیا صرف تلبیہ کہنے سے احرام کی پابندیاں شروع ہو جاتی ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا احرام کی نیت کئے بغیر تلبیہ پڑھنے سے احرام لازم ہوجاتا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ہم اپنے گھر پر سلے ہوئے کپڑے پہنے ہونے کی حالت میں تلبیہ پڑھ لیں جیسے بعض اوقات ہم ذکر کی نیت سے یا یاد کرنے کی نیت سے تلبیہ پڑھتے ہیں عمرہ یا حج کی نیت نہیں ہوتی، تو کیا اس طرح تلبیہ کہنے سے احرام کی پابندیاں لازم ہوجاتی ہیں؟

سائل: سید رضوان الحسن

جواب

احرام کی حالت میں داخل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ تلبیہ سے پہلے حج یا عمرہ میں سے ایک یا پھر مطلق مناسک کی ادائیگی کے لئے احرام کی نیت کرے، لہٰذا اگر بلا نیت تلبیہ پڑھ لی جائے جیسا کہ بعض اوقات یاد کرنے کے لئے یا ذکر اللہ کی نیت سے تلبیہ پڑھ لی جاتی ہے، تو اس صورت میں بندہ محرم نہیں ہوجاتا اور اس پر احرام کی پابندیاں بھی لازم نہیں ہوتیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے: ”اما شرطہ فالنیۃ حتی لا یصیر محرما بالتلبیۃ بدون نیۃ الاحرام“ یعنی بہر حال احرام کی شرط،تو وہ نیت ہے، یہاں تک کہ احرام کی نیت کے بغیر تلبیہ کہنے سے محرم نہ ہوگا۔ (فتاوی ھندیہ، جلد 1، صفحہ 245، مطبوعہ: بیروت)

مبسوط لسرخسی میں ہے: ”انما يصير محرما بالتلبية اذا نوى الاحرام فاما بدون النية لا يصير محرما“ یعنی تلبیہ کہنے سے اس وقت محرم ہوگا، جب وہ احرام کی نیت کرے، بلا نیت (تلبیہ کہہ لیا) تو محرم نہ ہوگا۔ (المبسوط لسرخسی، جلد 4، صفحہ 187، مطبوعہ: بیروت)

علامہ علی بن سلطان القاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”تعیین النسک لیس بشرط بل یکفی فی صحتہ ان ینوی بقلبہ ما یحرم بہ من حج او عمرۃ او قران او نسک من غیر تعیین“ یعنی نسک کی تعیین شرط نہیں، بلکہ احرام کے صحیح ہونے کے لئے کافی ہے کہ بلا تعیین اپنے دل سے حج، عمرہ، قران یا کسی نسک کی نیت کرے۔ (المسلک المتقسط مع ارشاد الساری، صفحہ 126، مطبوعہ: مکۃ المکرمۃ)

خاتم المحققین علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ان صحۃ الاحرام لا تتوقف علی نیۃ النسک ای علی تعیینہ و لیس المراد انھا لا تتوقف علی نیۃ نسک اصلا۔ فافھم“ یعنی احرام کا صحیح ہونا نیتِ نسک یعنی نسک کی تعین پر موقوف نہیں، اس سےیہ مراد نہیں کہ اصلاً ہی نیتِ نسک پر موقوف نہیں۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 564، مطبوعہ: کوئٹہ)

مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: احرام کے لئے نیت شرط ہے، اگر بغیر نیت لبیک کہا، احرام نہ ہوا۔ (بھارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 1074، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-12224
تاریخ اجراء: 06 ذو القعدۃ الحرام 1443ھ / 06 جون 2022ء