logo logo
AI Search

طواف کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو کیا کریں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طواف کے دوران وضو کرنے اور کوئی چیز کھانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ

(1) دوران طواف اگر وضو ٹوٹ جائے، تو وضو کے بعدنئے سرے سے طواف کرنا ہوگا یا جہاں سے چھوڑ کر جاؤں گا وہیں سے بِنا کر سکتا ہوں یا وہی چکر حجر اسود سے دوبارہ شروع کرنا ہوگا؟

(2) کیا دوران طواف کوئی چیز کھا سکتے ہیں؟

جواب

(1) طواف کے دوران وضو ٹوٹنے کی صورت میں دیکھا یہ جائے گا کہ کتنے چکر پورے کرنے کے بعد وضو ٹوٹا، اگر طواف کے چار سے کم چکر لگائے تھے کہ وضو ٹوٹ گیا اور وضو کرنے چلے گئے، تو اس صورت میں آپ کو اختیار ہوگا کہ واپس آکر اُسی پہلے طواف پر بِنا کریں یعنی جتنے پھیرے رہ گئے تھے صرف وہی کرلیں گے، تو طواف پورا ہوجائے گا، نئے سرے سے شروع کرنا ضروری نہیں، البتہ یہ بھی اختیار ہے کہ نئے سرے سے شروع کریں، اس میں بھی کوئی حرج نہیں اور اس صورت میں اُس پہلے طواف کو پورا کرنا ضروری نہیں۔ ہاں اگرچار یا زیادہ پھیرے کر لیے تھے، تو اب وضو کے بعد واپس آکر نئے سرے سے نہیں کر سکتے، جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے کرنا ہوگا۔ اور بِنا کی صورت میں حجرِ اسود سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جہاں سے چھوڑا تھا، وہیں سے شروع کرے۔

طواف کے دوران وضو کرنے چلا جائے، تو واپس آکر طواف پر بِنا کر سکتا ہے یا نہیں اس سے متعلق بہار شریعت میں در مختار اور رد المحتار سے ہے: طواف کرتے کرتے نمازِ جنازہ یا نمازِ فرض یا نیا وضو کرنے کے لیے چلا گیا، تو واپس آکر اُسی پہلے طواف پر بِنا کرے یعنی جتنے پھیرے رہ گئے ہوں، انہیں کرلے طواف پورا ہوجائے گا، سرے سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں اور سرے سے کیا جب بھی حرج نہیں اور اس صورت میں اس پہلے کو پورا کرنا ضرور نہیں اور بِنا کی صورت میں جہاں سے چھوڑا تھا، وہیں سے شروع کرے حجرِ اسود سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ سب اس وقت ہے جب کہ پہلے چار پھیرے سے کم کیے تھے اوراگر چار پھیرے یا زیادہ کیے تھے، تو بِنا ہی کرے۔ (بھار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1100، 1101، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

(2) دوران طواف کچھ کھانا، مکروہ ہے اور اگر اعتکاف کی نیت نہیں کی ہوئی، تو یہ ایک اور جرم ہوگا، کیونکہ مسجد میں غیر معتکف کا کھانا پینا ناجائز ہے۔ طواف کے مکروہات بیان کرتے ہوئے فتاوی رضویہ شریف اور بہار شریعت میں فرمایا: طواف میں کچھ کھانا۔ پیشاب پاخانہ یا ریح کے تقاضے میں طواف کرنا۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 745، رضا فاونڈیشن، لاھور) (بھار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1114، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

علامی شامی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں: ’’یکرہ النوم و الأکل فی المسجد لغیر المعتکف‘‘ ترجمہ: مسجد میں معتکف کے علاوہ دوسرے شخص کو سونا اور کھانا، مکروہ ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج 2، ص 448، دار الفکر، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں ایک ضابطہ کلیہ عطا فرمایا ہے، جس سے ان سب جزئیات کا حکم صاف ہوجاتا ہے، فرماتے ہیں رسول اللہ تعالیٰ علیہ و سلم: من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا اللہ علیک فان المساجد لم تبن لھذا۔ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ (ترجمہ: جو کسی شخص کو سنے کہ مسجد میں اپنی گم شدہ چیز دریافت کرتا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ کہے اللہ تیری گمی چیز تجھے نہ ملائے، مسجدیں اس لئے نہیں بنیں۔ .... اور ظاہر ہے کہ مسجدیں سونے، کھانے پینے کو نہیں بنیں، تو غیر معتکف کو اُن میں ان افعال کی اجازت نہیں اور بلاشبہ اگر ان افعال کا دروازہ کھولا جائے، تو زمانہ فاسد ہے اور قلوب ادب و ہیبت سے عاری، مسجدیں چو پال ہوجائیں گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی و کل ما ادی الی محظور محظور (ہر وہ چیز جو ممنوع کام تک پہنچائے ممنوع ہوجاتی ہے۔) (فتاوی رضویہ، ج 8، ص 93، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-713
تاریخ اجراء: 03 رجب المرجب 1444ھ / 26 جنوری 2023ء