کیا زوال کے وقت یا مکروہ وقت میں عمرہ کرنے سے ادا ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مکروہ وقت میں عمرہ ادا کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص نے عمرہ ادا کرنا شروع کیا، اسی دوران زوال کا وقت داخل ہوگیا، لیکن اس نے عمرہ مکمل کرلیا، تو کیا زوال کے وقت کیا گیا عمرہ درست ادا ہوگیا یا اس وقت میں رک جانا چاہئے تھا؟
جواب
مکروہ اوقات میں طواف اور سعی کر سکتے ہیں، اس میں حرج نہیں، البتہ نمازِ طواف تین اوقاتِ مکروہہ (یعنی طلوع آفتاب سے تقریباً 20 منٹ بعد تک، استواء شمس سے سورج ڈھلنے تک جسے عرفِ عام میں زوال کا وقت کہتے ہیں اور غروب آفتاب سے پہلے کے تقریباً 20 منٹ) میں ادا کرنا، جائز نہیں ہے، بلکہ ان اوقات میں ادا کرنے سے ادا ہی نہیں ہوتی، یعنی یہ نمازان میں سے کسی مکروہ وقت میں پڑھنے کے سبب ذمے سے ساقط نہیں ہوتی، بلکہ اسے مباح وقت میں پڑھنا بدستور واجب رہتا ہے۔ لہذا اگر کوئی ان میں سے کسی وقت میں طواف کر کے فارغ ہوا ہو، تو اس وقت میں طواف کے نوافل ادا نہ کرے، بلکہ مکروہ وقت ختم ہونے کے بعد پڑھے۔
نیز نمازِ فجر کے پورے وقت میں، اسی طرح نمازِ عصر کے فرض ادا کر لینے کے بعد بھی (اگرچہ ابھی آفتاب زرد نہ ہوا) نمازِ طواف پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اگر شروع کردی ہو تو توڑ کر کسی مباح وقت میں پڑھنا ضروری ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں دوران عمرہ زوال کا وقت داخل ہوا اور اس وقت میں عمرہ مکمل کرلیا تو دیگر شرائط وغیرہ مکمل ہوجانے کی صورت میں عمرہ درست ہوگیا، اور زوال کا وقت داخل ہونے پر رک جانا ضروری نہیں تھا۔ البتہ طواف کے نوافل اس وقت میں ادا نہیں کرسکتے تھے، جس کی تفصیل اوپر گزری لہذا اگر طواف کے نوافل اس وقت میں اداکیے تھے، تو توبہ کے ساتھ انہیں مباح وقت میں دوبارہ اد اکرنا ضروری ہے۔
بہار شریعت میں ہے ایک طواف کے بعد جب تک اس کی رکعتیں نہ پڑھ لے دوسرا طواف شروع کردینا مگر جب کہ کراہت نماز کا وقت ہو جیسے صبح صادق سے بلندی آفتاب تک یا نماز عصر پڑھنے کے بعد سے غروب آفتاب تک کہ اس میں متعدد طواف بے فصل نماز جائز ہیں۔ وقت کراہت نکل جائے تو ہر طواف کے لیے دو رکعت ادا کرے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1113، 1114، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
27 واجبات حج اور تفصیلی احکام نامی کتاب میں ہے تین اوقات مکروہہ یعنی طلوع آفتاب سے تقریباً 20 منٹ بعد تک، استواء شمس سے سورج ڈھلنے تک جسے عرفِ عام میں زوال کا وقت کہتے ہیں اور غروب آفتاب سے پہلے کے تقریباً 20 منٹ میں یہ نماز پڑھنے سے ادا ہی نہیں ہوتی یعنی یہ نماز مکروہ وقت میں پڑھنے کے سبب ذمے سے ساقط نہیں ہوگی بلکہ اسے مباح وقت میں پڑھنا بدستور واجب رہتا ہے ۔۔۔۔۔ وقتِ فجر سے طلوع آفتاب تک اور نمازِ عصر کے بعد سے لے کر غروبِ آفتاب سے تقریباً 20 منٹ پہلے تک ان دو رکعتوں کا پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، یعنی اگر پڑھنا شروع کردی تو یہ نماز توڑ کر کسی مباح وقت میں پڑھنا واجب ہے۔ (27 واجبات حج اور تفصیلی احکام، ص 169، 170، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1605
تاریخ اجراء: 13 شوال المکرم 1444ھ / 04 مئی 2023ء