پیشاب کے قطروں کی بیماری میں احرام کو نجاست سے بچانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پیشاب کے قطروں کا مرض ہو، تو مُحرم احرام کو نجاست سے کیسے بچائے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلےکے بارے میں کہ مجھے پیشاب کے قطروں کا مرض ہے، اگرچہ میں شرعی معذور نہیں ہوں، مگر کب قطرہ آجائے مجھے اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اللہ پاک کے کرم سے میں حج پر جا رہا ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ قطروں سے میرا بدن اوراحرام ناپاک نہ ہو، تو کیا میں احرام کی حالت میں عضو مخصوص پر کوئی بغیر سلا ہوا کپڑا یا پیپر وغیرہ لپیٹ سکتا ہوں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کا یہ عمل سر اور چہرے کے علاوہ بدن کے کسی حصے پر پٹی باندھنے کی طرح ہے اور سر اور چہرے کے علاوہ بدن کے کسی حصے پر پٹی باندھنا اگر کسی عذرکی وجہ سے ہو، تو جائز ہوتا ہے اور بغیر عذر ہو، تو مکروہ ہوتا ہے، البتہ کفارہ کسی صورت میں بھی نہیں ہوتا۔ پوچھی گئی صورت میں بدن اور احرام کے لباس کو نجاست سے بچانا بھی ایک عذر ہے کہ شریعت میں نجاست سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے، لہذا یہ عمل مکروہ بھی نہیں کہلائے گا۔ نیز عذر نہ ہونے کی صورت میں جو کراہت ہے، اس کی وجہ فقہاء نے یہ لکھی ہے کہ یہ ایک عبث اور لغو کام ہے، اس لیے مکروہ ہے، اور ظاہر ہے کہ بدن اور احرام کو نجاست سے بچانا کوئی عبث اور فضول کام نہیں ہے۔ لہذا اس میں کراہت بھی نہیں ہوگی۔
تنویر الابصار مع الدر المختارمیں محرم کے بارے میں ہے: (و) لا يتقی (ختانا و فصدا) ترجمہ: یہ ضروری نہیں ہے کہ محرم ختنہ کرنے اور فصد لگانے سے بچے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 3، صفحہ 573، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار میں اس کے تحت فرمایا: ”أی و ان لزم تعصیب الید لما قدمناہ من أن تعصیب غیر الوجہ و الرأس انما یکرہ لو بغیر عذر“ ترجمہ: یعنی اگرچہ ان صورتوں میں پٹی باندھنا لازم آئے گا (پھر بھی فصد و ختنہ درست ہے) کیونکہ ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں کہ چہرے اور سر کے علاوہ پٹی باندھنا تب مکروہ ہے جبکہ عذر کے بغیر ہو۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 3، صفحہ 573، مطبوعہ کوئٹہ)
فتح القدیرمیں کراہت کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”ما قدمناه من كراهة عصب غير الرأس من بدنه انما هو لكونه نوع عبث“ ترجمہ: ہم نے جو پیچھے بیان کیا کہ سرکے علاوہ بدن کے کسی حصے پر پٹی باندھنا مکروہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک عبث کام ہے۔ (فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 445، مطبوعہ بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
مصدق: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
فتویٰ نمبر: Gul-2878
تاریخ اجراء: 05 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 26 مئی 2023ء