جدہ سے مدینہ آنے پر احرام باندھنا لازمی ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جدہ آنے والے نے ڈائریکٹ مدینہ شریف جانا ہو تو احرام باندھے گا یا نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص اپنے والدین کو عمرے پر لے جارہا ہے، وہ شخص یوکے سے جدہ جائے گا، اور اسی دن اس کے والدین پاکستان سے جدہ اتریں گے، پھر وہ شخص اپنے والدین کو جدہ سے ڈائریکٹ مدینہ منورہ لیکر جائے گا۔ ایسی صورت میں اس شخص پر اور اس کے والدین پر میقات سے احرام باندھنا لازم ہوگا یا پھر وہ بغیر احرام جدہ آسکتے ہیں؟
جواب
جو شخص میقات کے باہر سے آتے ہوئے حرمِ مکہ کے علاوہ، حِل میں کسی جگہ جانے کا ارادہ کرے تو ایسے شخص پر میقات سے گزرتے ہوئے احرام باندھنا لازم نہیں ہوتا۔ اب پوچھی گئی صورت میں چونکہ اس شخص کی یوکے سے اور اس کے والدین کی پاکستان سے حرمِ مکہ جانے کی نیت نہیں، بلکہ جدہ جانے کی ہے اور جدہ حرم سے باہر حِل میں ہے، لہذا وہ شخص اور اس کے والدین بغیر احرام جدہ آسکتے ہیں، اُن پر میقات سے احرام باندھنا لازم نہیں۔
میقات کے باہر سے آنے والا، اگر حل میں کسی جگہ جانے کا ارادہ کرے تو بغیر احرام میقات سے گزرسکتا ہے، جیسا کہ در مختار میں ہے: ’’لو قصد موضعا من الحل کخلیص و جدۃ حل لہ مجاوزتہ بلا احرام ‘‘ترجمہ: اگر حل میں کسی جگہ مثلاً خلیص اور جدہ کا ارادہ کیا تو اب بغیر احرام میقات سے گزرنا جائز ہے۔ (در مختار، کتاب الحج، مطلب فی المواقیت، ج 2، ص 476، دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ میقات کے اندر کسی اور جگہ مثلاً جدّہ جانا چاہتا ہے تو اُسے احرام کی ضرورت نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1068، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابوحفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-2286
تاریخ اجراء: 06 جمادی الثانی 1445ھ / 20 دسمبر 2023ء