کیا وہیل چیئر پر حج کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وہیل چیئر پر مکمل حج کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہم فیملی کے ساتھ حج پر جارہے ہیں ہماری ایک آنٹی ہیں، جو ایک منٹ کے لیے بھی پیدل نہیں چل سکتیں، وہ ویل چیئر پر ہی سارا حج کریں گی، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں جب آپ کی آنٹی معذورہیں کہ پیدل چل نہیں سکتیں تووہ ویل چیئر پر حج کے افعال ادا کرسکتی ہیں۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ افعال حج میں سے طواف اور عمرہ ایسے افعال ہیں، جن کو بلاعذر سواری وغیرہ پر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن عذر ہو تو کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ جو افعال ہیں، جیسے عرفات کا وقوف، مزدلفہ کا وقوف، رمی جمار وغیرہ ان کو اگر بلا عذر بھی سواری پر کیا جائے تو اجازت ہے اور عذر کی صورت میں تو بدرجہ اولی اجازت ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے ”و لو طاف راكبا أو محمولا أو سعى بين الصفا و المروة راكبا أو محمولا إن كان ذلك من عذر يجوز و لا يلزمه شيء، و إن كان من غير عذر فما دام بمكة فإنه يعيد، و إذا رجع إلى أهله فإنه يريق لذلك دما عندنا كذا في المحيط“ ترجمہ: اگر کسی نے طواف یا صفا و مروہ کی سعی اس حالت میں کی کہ سواری پر سوار تھا یا کسی نے اسے اٹھایا ہوا تھا، تو اگر یہ عذر کی وجہ سے کیا تو جائز ہے اور اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا اور اگر بغیر عذر ایسا کیا تو جب تک مکہ میں ہے ان کا اعادہ کرے اور اگر اپنے اہل کی طرف لوٹ آیا تو ہمارے نزدیک اس کی وجہ سے دم دے، یونہی محیط میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الحج، ج 1، ص 247، دار الفکر، بیروت)
لباب المناسک میں ہے ”و لو سعی کلہ او اکثرہ راکبا او محمولا بلا عذر فعلیہ دم، و ان کان بعذر فلا شئ علیہ“ ترجمہ: اگر کسی نے بلاعذر کُل یا اکثر سعی اس حالت میں کی کہ سواری پر سوار تھا یا کسی نے اسے اٹھایا ہوا تھا تو اس پر دم لازم ہوگا، اور اگر عذر کی وجہ سے کی تو کچھ لازم نہیں۔ (لباب المناسک، فصل فی الجنایۃ فی السعی، ص 218، دار قرطبہ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1693
تاریخ اجراء: 10 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 31 مئی 2023ء