logo logo
AI Search

احرام کی حالت میں خوشبو والا ٹشو استعمال کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احرام میں Wet Tissue (خوشبو سے تر ٹِشو) استعمال کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اِس مسئلے کے بارے میں کہ اِحرام کی حالت میں ایسا ٹشو استعمال کرنا کہ جو خوشبو سے تَر ہوتا ہے، اُسے انگریزی میں بھی ”Wet Tissue“ یعنی گیلا ٹشو ہی کہا جاتا ہے۔ اگر مُحرِم اُس سے مکمل ہاتھوں کو صاف کرے، تو کیا حکم ہوگا؟

جواب

حالتِ احرام میں خوشبو سے تَر ٹشو (Wet Tissue) کے ذریعے ہاتھوں کو صاف کرنے سے مُحرِم پر دَم واجب ہوگا۔

اِس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ خوشبودار ٹشو پیپر میں اگر خوشبو کا عَین موجود ہے یعنی وہ پیپر خوشبو سے بھیگا ہوا ہے، تو اُس تری کے بدن پر لگنے کی صورت میں جو حکم خوشبو کا ہوتا ہے، وُہی اس کا بھی ہوگا، یعنی اگر خوشبو قلیل (کم) ہے اورعُضْوِ کامِل (یعنی پورے عُضْو) کو نہیں لگی، تو مُحرِم پر صدقہ واجب ہے اور اگر خوشبو کثیر (یعنی زیادہ) ہو یا پورےعُضْو کو لگ جائے، تو دم واجب ہے۔ اب جبکہ سوال کے مطابق مُحرِم نے اُس خوشبو سے بھیگے ٹشو سے مکمل ہاتھ کو صاف کیا تو دَم واجب ہوگا، کیونکہ ہاتھ ایک کامِل عضو ہے اور کامل عضو کو خوشبو لگنے کی صورت میں دَم واجب ہوتا ہے اور اگر پورے ہاتھ کو نہ لگی، لیکن اُس ٹشو سے لگنے والی خوشبو اِتنی زیادہ ہو کہ اُس پر ”کثیر“ یعنی بہت زیادہ خوشبو ہونے کا اِطلاق ہو تو بھی دَم واجب ہوگا۔

اوپر مسئلہ میں دَم کے واجب ہونے کا ذکر ہوا۔ دَم سے مراد ایک بکرا ہے، اِس میں نَر، مادہ، دُنبہ، بھیڑ، نیز گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ سب شامل ہیں، نیز اِس جانور کا حرم میں ذبح ہونا شرط ہے اور مزید یہ کہ اِس دم میں دیے جانے والے جانور میں سے نہ تو آپ خود کچھ کھا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی غنی کو کھلا سکتے ہیں، وہ صرف محتاجوں کا حق ہے۔

جسم پر خوشبو لگنے کے متعلق علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں: ”لو اصاب جسدہ ای کلہ او عضوا کاملا او اکثر او اقل طیب کثیر فعلیہ دم و ان غسل من ساعتہ‘‘ ترجمہ: اگر محرم کے پورے جسم پر یا ایک عضوِ کامل یا اس کے اکثر پر خوشبو لگی یا عضو کے تھوڑے حصے پر کثیر خوشبو لگی تو مُحرِم پر دم واجب ہے، اگرچہ اُس نے اُسے فوراً دھو لیا ہو۔ (المسلک المتقسط مع حاشیۃ ارشاد الساری، فصل فی التداوی بالطیب، صفحہ 452، مطبوعہ ملتان)

ہاتھ عضوِ کامل ہے، علامہ شیخ رحمت اللہ سندھی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 993ھ / 1585ء) لکھتے ہیں: ’’العضو کالراس و اللحیۃ و الشارب و الید‘‘ ترجمہ: عضو، جیسے سَر، داڑھی، مونچھیں اور ہاتھ ہیں۔ (لباب المناسک مع شرحہ للقاری، باب الجنایات، صفحہ 312، مطبوعہ ادارۃ القران و العلوم الاسلامیۃ)

اگر خوشبو پر کثیر کا اطلاق ہوسکے، تو پھر عضوِ کامل کا بھی اعتبار نہیں رہتا، بلکہ خوشبو کے کثیر ہونے کی بنیاد پر ہی دَم واجب ہو جاتا ہے، چنانچہ علامہ شیخ رحمت اللہ سندھی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: ’’ان کان الطیب کثیرا فالعبرۃ بالطیب ای لا بالعضو‘‘ ترجمہ: اگر خوشبو کثیر ہو، تو خوشبو کا ہی اعتبار ہوگا، عضو کا اعتبار نہیں ہوگا۔ (لباب المناسک مع شرحہ للقاری، باب الجنایات، صفحہ 312، مطبوعہ ادارۃ القران و العلوم الاسلامیۃ)

دم کی مقدار بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اِس فصل میں جہاں دَم کہیں گے اس سے مراد ایک بھیڑ یا بکری ہوگی، اور بدنہ اونٹ یا گائے، یہ سب جانور اُن ہی شرائط کے ہوں جو قربانی میں ہوں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 757، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

دم کی ادائیگی حرم میں کرنا ضروری ہے، نیز اُس میں سے خود کچھ نہیں کھا سکتے، چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: کفارہ کی قربانی یا قارِن و متمتع کے شکرانہ کی غیر حرم میں نہیں ہوسکتی، اگر غیر حرم میں کی تو ادا نہ ہوئی، نیز شکرانہ کی قربانی سے آپ کھائے، غنی کو کھلائے، مساکین کو دے اور کفارہ کی قربانی صرف محتاجوں کا حق ہے۔ ملتقطاً۔ (بھارِ شریعت، جلد1، حصہ 6، صفحہ 1162، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس عطار قادری اطال اللہ عمرَہ لکھتے ہیں: دَم یعنی ایک بکرا، اِس میں نر، مادہ، دنبہ، بھیڑ، نیز گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ سب شامل ہیں۔ (رفیق المعتمرین، صفحہ 137، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

دَم کی مقدار، معیار اور دیگر شرائط کو علامہ سندھی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تفصیلاً بیان کیا ہے، اُس کا خلاصہ وہی ہے جسے اوپر رفیق المعتمرین اور نیچے بھارِ شریعت کی عبارتوں میں ذکر کردیا گیا ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے باقاعدہ اِس عنوان پر فصل بنام ”فصل فی احکام الدماء و شرائط جوازِھا“ قائم فرمائی۔ (لباب المناسک، کتاب الحج، صفحہ 244، مطبوعہ دار قرطبۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Sar-7686
تاریخ اجراء: 28 جمادی الاولی 1443ھ / 02 جنوری 2022ء