کپڑوں پر کم نجاست لگی ہو تو طواف کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کپڑوں یا جسم پرحقیقی نجاست لگی ہو تو طواف کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کپڑوں پر درہم سے کم نجاست لگی ہو تو کیا اس حالت میں طواف کرنے سے طواف ہوجائے گا یا نہیں؟ کوئی کفارہ تو لازم نہیں ہوگا؟
جواب
پوچھی گئی صورت طواف تو ہوجائے گا اور کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا لیکن طواف میں لباس وغیرہ نجاست سے پاک ہونا چاہیے۔
چنانچہ مفتی علی اصغر عطاری مدنی مدظلہ العالی اپنی کتاب حج کے 27 واجبات میں لکھتے ہیں: واضح رہے کہ نجاستِ حقیقی مثلاً جسم یا لباس پر پیشاب کا لگا ہونا وغیرہ طواف میں اس سے پاک ہونا واجب نہیں ہے۔ البتہ تاکید ضرور ہے اور نجاست ِحقیقی کا پایا جانا کراہتِ تنزیہی بلکہ اِساءت کا سبب ضرور بنتا ہے۔ البتہ ایسی صورت میں دَم یا صدقہ لازم نہ ہوگا۔ (حج کے 27 واجبات، صفحہ 122)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-160
تاریخ اجراء: 22 شوال المکرم 1443ھ / 24 مئی 2022ء