آٹھ ذوالحجہ کو منی جانے کا سنت وقت کونسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آٹھ ذو الحجہ کو منی جانے کا سنت وقت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر آٹھ ذو الحجہ کو حاجی ظہر کے آخری وقت میں یا عصر میں منی پہنچے تو کیا حکم ہے؟
جواب
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے آٹھویں کی ظہر سے لیکر نویں کی فجر تک پانچوں نمازیں منیٰ میں ادا فرمائیں لہذا سنت یہ ہے کہ آٹھ ذو الحجہ کو ظہر کی نماز منی میں ادا کرے لیکن اگر لیٹ ہوگیا اور ظہر منی میں نہیں پڑھ سکا، ظہر مکہ میں یا راستہ میں پڑھ کر اس کے بعد ظہر کے آخری وقت میں یا عصر کے وقت میں منی پہنچا تو تب بھی کوئی حرج نہیں۔
لباب و شرح لباب میں ہے ”سنن الحج ۔۔۔ (الخروج من مکۃ الی منی یوم الترویۃ) ای بعد فجرہ حتی یصلی خمس صلوات فی منی“ ترجمہ: حج کی سنتوں میں سے ہے کہ آٹھویں ذوی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد مکہ سے منی جایا جائے تاکہ اگلی پانچ نمازیں منی میں ادا کی جائیں۔ (لباب و شرح لباب، فصل فی سنن الحج، ص 104، المکتبۃ الامدادیۃ، السعودیۃ)
فتاوی ہندیہ میں ہے "ثم يروح مع الناس إلى منى يوم التروية بعد صلاة الفجر و طلوع الشمس كذا في فتاوى قاضي خان. و هو الصحيح و لو ذهب قبل طلوع الشمس جاز و الأول أولى كذا في البدائع ۔۔۔۔ و لو صلى الظهر يوم التروية بمكة ثم خرج منها و بات بمنى لا بأس به كذا في فتاوى قاضي خان." ترجمہ: پھر آٹھویں ذی الحجہ کو نمازِ فجر و طلوع شمس کے بعد لوگوں کے ساتھ منی کی طرف جائے، یونہی فتاوی قاضی خان میں ہے اور یہی صحیح ہے اور اگر طلوع شمس سے پہلے چلا گیا تو بھی جائز ہے لیکن پہلی صورت اولی ہے، جیسا کہ بدائع میں ہے اور اگر آٹھ ذی الحجہ کو ظہر کی نماز مکہ میں ادا کرکے یہاں سے گیا اور رات منی میں گزاری تو کوئی حرج نہیں، یونہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 01، ص 227، دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں حج کی سنتوں کے بیان میں ہے آٹھویں کی فجر کے بعد مکّہ سے روانہ ہونا کہ منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھ لی جائیں۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1050، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1706
تاریخ اجراء: 14 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 03 جون 2023ء