کیا حج تمتع میں حج کی قربانی منی میں کرنا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا حج کی قربانی منی میں کرنا ضروری ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حج تمتع والے کی قربانی کیا منی میں ہی کرنا ضروری ہے یا حدودِ حرم میں کسی بھی جگہ کر سکتے ہیں؟
جواب
حج کی قربانی کا حرم میں ہونا واجب ہے اور منی میں کرنا سنت ہے، لہذا اگر کسی نے حدودِ حرم میں کسی بھی جگہ قربانی کرلی، تو جگہ کے بارے میں جو وجوب تھا، وہ ادا ہو جائے گا۔
لباب و شرح لباب میں ہے ”(و یختص) ای جواز ذبحہ (بالمکان و ھو الحرم) فلا یجوز ذبحہ فی غیرہ اصلا، و اما المکان المسنون ففی المبسوط ان السنۃ فی الھدایا ایام النحر منی“ ترجمہ: حج کی قربانی کا جواز مکان کے ساتھ خاص ہے اور وہ مکان حرم ہے، پس حرم کے علاوہ کسی دوسری جگہ یہ قربانی اصلا جائز نہیں اور جہاں تک حج کی قربانی کے مسنون مقام کا معاملہ ہے تو اس کے متعلق مبسوط میں ہے کہ حج کی قربانی میں سنت یہ ہے کہ ایام نحر میں منی میں ہو۔ (لباب و شرح لباب، باب القران، فصل فی ھدی القارن و المتمتع، ص 369، المکتبۃ الامدادیۃ، السعودیۃ)
27 واجبات حج اور ان کے تفصیلی احکام نامی کتاب میں ہے حرم کی سرزمین پرکسی بھی جگہ قربانی ہوئی تو جگہ کے بارے میں جو وجوب تھا وہ ادا ہو جائے گا البتہ مِنیٰ میں قربانی کرنا سنت ہے۔ (27 واجبات حج اور ان کے تفصیلی احکام، ص 114، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1712
تاریخ اجراء: 16 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 05 جون 2023ء