کیا عمرہ میں طواف وداع کا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرہ کرنے والے کے لیے طوف وداع کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جناب کیا عمرہ کرنے والے کے لیے بھی طوافِ وداع واجب ہے؟
جواب
عمرہ کرنے والے پر طواف وداع واجب نہیں ہوتا۔ چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہار شریعت میں نقل فرماتے ہیں (حاجی کا) جب ارادہ رخصت کا ہو طوافِ وداع بے رَمل و سعی و اِضطباع بجا لائے کہ باہر والوں پر واجب ہے۔ ہاں وقت رُخصت عورت حیض یا نفاس سے ہو تو اس پر نہیں، جس نے صرف عمرہ کیا ہے اس پر یہ طواف واجب نہیں پھر بعد طواف بدستور دو رکعت مقام ابراہیم میں پڑھے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1151، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1275
تاریخ اجراء: 27 ربیع الثانی 1444ھ / 23 نومبر 2022ء