logo logo
AI Search

دم کی استطاعت نہ ہو تو دم کی جگہ روزے رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس پر دَم لازم ہو اور وہ دَم دینے پر قادر نہ ہو، تو کیا حکم ہے

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے کسی مجبوری کے بغیر سلے ہوئے کپڑے پورے ایک دن تک پہنے رکھے، مگر فقیر ہونے کے سبب دم دینے پر قادر نہیں۔ کیا دم دینے کے لیے وہ قرض لے یا کسی سے مدد مانگے یا اس کے بدلے روزے رکھ لے یا فقط توبہ کر لینا کافی ہے؟

سائل: صوفی اقبال ضیائی (مدینہ منورہ)

جواب

پوچھی گئی صورت میں زید پر توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ دم دینا بھی واجب ہے، اس کی بجائے روزے رکھنایا صدقہ دینا یا محض توبہ کر لینا کافی نہیں، کیونکہ یہ جرم اختیاری ہے اور جرمِ اختیاری کے ارتکاب پر جہاں دم واجب ہو، وہاں دم دینا ہی لازم ہوتا ہے، اس کے بجائے صدقہ یا روزے رکھنا کفایت نہیں کرتا، البتہ دم کی ادائیگی فی الفور لازم نہیں، بلکہ بعد میں بھی دیا جاسکتا ہے، لہٰذا اگر زید کے پاس فی الوقت دم دینے کی استطاعت نہیں، تو انتظار کرے، جب استطاعت ہو تو خود یا کسی معتمد فرد کے ذریعے حرم میں ایک بکری ذبح کروادے، قرض لے کر دم کی ادائیگی کر سکتا ہو، تو قرض لے کر کرے۔ اگر زندگی میں دم ادا نہ کیا تھا کہ وفات کا وقت قریب آگیا، تو وصیت کرنا واجب ہے، بغیر وصیت کیے فوت ہوگیا، تو گنہگار ہوگا۔

کپڑے بغیر عذرایک دن تک پہنے ہوں تو دم واجب ہے، اس کے بدلے کوئی دوسری چیز دینا جائز نہیں۔ جیسا کہ مناسک ملا علی قاری میں ہے: ”اذا فعل شیئا من ذلک علی وجہ الکمال ای مما یوجب جنایۃ کاملۃ بان لبس یوما او طیب عضوا کاملا و نحو ذلک فان کان ای فعلہ بغیر عذر فعلیہ الدم عینا ای حتما معینا و جزما مبینا لا یجوز عنہ غیرہ بدلا اصلا“ ترجمہ: جب محرم نے مذکورہ کسی چیز کو علی وجہ الکمال کیا یعنی اتنی مقدار میں کہ جس سے جنایت کامل ہو جائے مثلاً ایک دن لباس پہنا یا ایک پورے عضو کو خوشبو لگالی وغیرہ تو اگر محرم نے کسی عذر کے بغیر ارتکابِ جرم کیا ہو تو اس پر معین و لازمی طور پر دم دینا واجب ہے، اس کے علاوہ کوئی چیز اس کا بدل اصلاً نہیں ہوسکتی۔ (مناسک علی القاری، باب فی جزاء الجنایات، فصل فی جزاء اللبس، ص 551، مکۃ المکرمۃ)

دم دینا متعین طور پر واجب ہو، تو اس کی جگہ روزہ رکھنا یا قیمت دینا وغیرہ کافی نہیں۔ جیسا کہ علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”حیث وجب الدم عینا لا یجوز عنہ ای بدلہ غیرہ من الصدقۃ و الصوم و القیمۃ ای لا قیمۃ الھدی و لا قیمۃ الصدقۃ و انما یسقط بالاراقۃ فی الحرم“ ترجمہ: جہاں معین طور پر دم واجب ہے، اس کے بدلے کوئی دوسری شے یعنی صدقہ فطر ادا کرنا یا روزہ رکھنا یا صدقہ فطر یا ہدی کی قیمت دینا جائز نہیں، بلکہ حرم میں دم کا جانور قربان کرنے سے ہی دم ساقط ہوگا۔ (مناسک علی القاری، باب فی جزاء الجنایات، فصل فی انواع الکفارات، ص 569، مکۃ المکرمۃ)

دم دینے پر قادر نہ ہونا، روزے رکھنے کا اختیار لینے کے لیے عذر نہیں، دم دینا متعذر ہو، تو دم ذمہ پر باقی رہے گا۔ جیسا کہ علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”و عدم القدرۃ علی الکفارۃ فلیست باعذار فی حق التخییر، و لو ارتکب المحظور بغیر عذر فواجبہ الدم عینا او الصدقۃ فلا یجوز عن الدم طعام او صیام و لا عن الصدقۃ صیام فان تعذر علیہ ذلک بقی فی ذمتہ“ ترجمہ: کفارے کی ادائیگی پر قادر نہ ہونا متبادل صورت کو اختیار کرنے کا عذر نہیں، لہٰذا اگر بغیر عذر کسی ممنوع کام کا ارتکاب کیا تو اس پر بعینہ دم یا صدقہ ہی واجب ہوگا (یعنی ان دونوں میں سے جو لازم آئے گا وہی دینا پڑے گا، اختیار نہیں ہوگا) لہٰذا دم کے بدلے کھانا کھلانا یا روزےرکھنا جائز نہیں ہوگا اور نہ ہی صدقے کے بدلے روزے رکھنا جائز ہوگا، اگر دم یا صدقہ دینا متعذر ہو تو بھی یہ چیزیں ذمہ پر باقی رہیں گی۔ (رد المحتار، کتاب الحج، باب الجنایات، ج 3، ص 671، کوئٹہ)

دم اور کفارے علی التراخی واجب ہوتے ہیں۔ نیز زندگی میں ادا نہ کیا، تو مرتے وقت وصیت کرنا واجب ہے۔ جیسا کہ لباب المناسک میں ہے: ”اعلم ان الکفارات کلھا واجبۃ علی التراخی فلا یاثم بالتاخیر عن اول وقت الامکان و یکون مودیالا قاضیا فی ای وقت ادیٰ و انما یتضیق علیہ الوجوب فی آخر عمرہ فی وقت یغلب علی ظنہ ان لو لم یؤدہ لفات فان لم یؤد فیہ فمات اثم و یجب علیہ الوصیۃ بالاداء و الافضل تعجیل اداء الکفارات“ ترجمہ: جان لو کہ تمام کفارے علی التراخی واجب ہیں لہذا ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود تاخیر کرنے پر گنہگار نہیں ہوگا، جب بھی ادا کرے گا، ادا ہی ہوگا، قضا نہیں ہوگا البتہ عمر کے آخری حصے میں جب اسے موت کا ظن غالب ہو جائے کہ اب ادا نہ کیا تو کفارہ ذمہ پر باقی رہ جائے گا تو اسی وقت کفارہ ادا کرنے کا وجوب متوجہ ہوگا اور بغیر ادا کیے فوت ہوگیا تو گنہگار ہوا اور کفارہ ادا کرنے کی وصیت کرنا اس پر واجب ہے۔ افضل یہ ہے کہ کفارے جلدی ادا کردے۔ (لباب المناسک، باب فی جزاء الجنایات، ص 542، مکۃ المکرمۃ)

بغیر عذر جرم کا ارتکاب کیا تو اب صرف مقررہ کفارہ دینے سے برئ الذمہ ہوگا۔ جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے: اگر بے عذر ایک دن کامل یا ایک رات کامل یا اس سے زائد سر چھپا رہا تو خاص حرم میں ایک قربانی ہی کرنی ہو گی جب چاہے کرے، دوسرا طریقہ کفارہ کا نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 713، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
فتویٰ نمبر: Nor-9968
تاریخ اجراء: 14 رمضان المبارک 1440ھ / 20 مئی 2019ء