logo logo
AI Search

حالت احرام میں سر پر برف رکھنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گرمی کی وجہ سے حالت احرام میں سر پر برف رکھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ گرمی کی شدت کی وجہ سے حاجی کا حالت احرام میں سر پر برف رکھنا کیسا ہے اور کیا اس کی وجہ سے کوئی کفارہ بھی لازم آئے گا ؟

جواب

گرمی کی شدت کی وجہ سے محرِم کا سر پر برف رکھنا جائز ہے، کیونکہ حالت احرام میں ایسی چیز سے سر چھپانے کی ممانعت ہے، جس سے عادتاً سر چھپایا جاتا ہو، جیسا کہ ٹوپی یا رومال وغیرہ، جبکہ برف سر چھپانے کے لیے استعمال نہیں کی جاتی، لہذا سر پر برف رکھنا جائز ہے اور اس سے کسی قسم کا کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

علامہ ابن عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: ”لو غطى رأسه بغير معتاد كالعدل ونحوه لا يلزمه شيء، فقد أطلقوا عدم اللزوم“ ترجمہ: اگر (محرم) اپنے سر کو کسی ایسی چیز سے ڈھانپ لے جو عادۃ سر ڈھانپنے کے لیے استعمال نہیں ہوتی، جیسے گٹھری اور اس جیسی کوئی چیز، تو اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا، فقہائے کرام نے کفارہ لازم نہ ہونے کے قول کو مطلقاً بیان کیا ہے۔ (رد المحتار علی الدر مختار، جلد 2، صفحہ 488، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

امام قدوری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 428ھ / 1036ء) لکھتے ہیں: ”قال ابن سماعة عن محمد: في محرم حمل على رأسه شيئا قال: إن كا ن من لباس الناس فهو بمنزلة المحرم يغطي رأسه وإن كان مما لا يلبس الناس نحو أجانة أو عدل بز وضعه على رأسه فلا شيء عليه ولا بأس به، لأنه إذا حمل الثياب فقد غطى رأسه بما يقصد به التغطيۃ، فصار كاللبس وإذا حمل غير ذلك فلم يحصل الاستمتاع بالتغطية فلم يلزمه جزاء“ ترجمہ: ابن سماعہ امام محمد علیہ الرحمۃ سے ایسے محرم کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس نے اپنے سر پر کوئی چیز اٹھائی ہو، تو (امام محمد علیہ الرحمۃ نے) فرمایا: اگر وہ چیز لوگوں کے لباس میں سے ہو، تو وہ ایسے ہی ہے جیسے محرم نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور اگر وہ ایسی چیز ہو جسے لوگ بطور لباس استعمال نہیں کرتے، جیسے ٹب یا گٹھری اپنے سر پر رکھی، تو اس پر کچھ لازم نہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ جب اس نے کپڑے اٹھائے تو اس نے اپنے سر کو ایسی چیز سے ڈھانپا جس سے ڈھانپنا مقصود ہوتا ہے، لہٰذا وہ پہننے کی مانند ہوگیا، اور جب اس نے اس کے علاوہ کوئی چیز اٹھائی تو ڈھانپنے کا مقصود حاصل نہ ہوا، پس اس پر جزاء بھی لازم نہ ہوگی۔ (شرح مختصر الکرخی، جلد 2، صفحہ 600، 601، مطبوعہ دار اسفار، الکویت )

امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ’’جو مرد اپنا سارا یا چوتھائی سر بحالت احرام چُھپائے جسے عادۃ سر چھپانا کہیں، جیسے ٹوپی پہننا، عمامہ باندھنا، سر سے چادر اوڑھنا، دُھوپ کے باعث سر پر کپڑا ڈالنا، درد کے سبب سر کسنا، زخم کی وجہ سے پٹی باندھنا (نہ گٹھڑی یا صندوق یا خوان وغیرہ کا سر پر اٹھانا کہ یہ سر چھپانے میں داخل نہیں) اس پر مطلقاً جُرمانہ واجب ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 713، رضافائونڈیشن، لاھور)

حالت احرام میں جو کام جائز ہیں، ان کو بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ’’یہ باتیں احرام میں جائز ہیں۔۔۔۔۔سر پر سِینی (گول برتن، تھال) اور بوری اٹھانا۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 734، رضا فائونڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0148
تاریخ اجراء: 20 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 06 جون 2026ء