حج والی رقم حج کے علاوہ کسی اور کام میں صرف کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج کے اخراجات کی رقم کوئی قرض مانگے تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حج فرض ہونے کا زمانہ آگیا، حاجی حج کو جارہے ہیں اور حج کے اخراجات کے مطابق حاجت سے زائد پیسے پاس موجود ہیں تو حج فرض ہوگیا لیکن اس وقت اگر بھائی قرض مانگے تو کیا اسے قرض دیں یا حج پر جائیں۔ اور صورت حال یہ ہے کہ اگر قرض نہ دیا تو بھائی اور والد دونوں ناراض ہوجائیں گے اور ساری باتیں سننی پڑیں گی۔
جواب
حج فرض ہوجانے کی صورت میں حج اخراجات والی رقم حج کے علاوہ کسی اور کام مثلابھائی کو قرض دینے وغیرہ میں صرف کرنا، جائز نہیں بلکہ ضروری ہے کہ رقم کے ذریعے حج پر جائے اور چاہئے کہ اپنے بھائی اور والد کو سمجھا کر حکم شرعی تسلیم کرنے پر رضامند کرلے، اگر وہ نہ مانیں تو ان کو نظر انداز کر کے حج پہ چلا جائے کہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔
بہار شریعت میں ہے: روپیہ ہے جس سے حج کرسکتا ہے مگر مکان وغیرہ خریدنے کا ارادہ ہے اور خریدنے کے بعد حج کے لائق نہ بچے گا تو فرض ہے کہ حج کرے اور باتوں میں اُٹھانا گناہ ہے یعنی اس وقت کہ اُس شہر والے حج کو جارہے ہوں اور اگر پہلے مکان وغیرہ خریدنے میں اُٹھا دیا تو حرج نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1042، مکتبۃ المدینہ، کراچی )
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1739
تاریخ اجراء: 21 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 10 جون 2023ء