کیا طواف کے دوران قرآن پڑھنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
طواف کے دوران قرآن پاک کی تلاوت کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ طواف کرتے ہوئے قران کریم کی تلاوت کا کیا حکم ہے؟
جواب
دوران طواف دیکھ کر یا بغیر دیکھے تلاوت قرآن کرنا، جائز تو ہے، البتہ افضل یہ ہے کہ اس دوران تلاوتِ قرآن کرنے کی بجائے ذکر و اذکار میں مشغول رہیں۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے طواف کے دوران تلاوت قرآن کرنا ثابت نہیں ہے اور متوارث طریقہ بھی یہی ہے کہ طواف کرتے ہوئے ذکر و دعا میں مشغول رہا جائے، فقہائے کرام نے اسی کو اَوْلیٰ قرار دیا ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’عند الطواف الذکر افضل من القراءۃ کذا فی السراجیۃ“ یعنی طواف کرتے ہوئے ذکر کرنا قراءت کرنے سے افضل ہے، سراجیہ میں یوں ہی ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 227، مطبوعہ پشاور)
رد المحتار میں ہے: ’’اقول الحاصل من ھذہ النقول التی ذکرناھا آنفا ان القراءۃ خلاف الاولی، و ان الذکر افضل منھا ماثوراً اَوْ لَا کما ھو مقتضی الاطلاق“ یعنی میں کہتا ہوں ہم نے جو نقول ابھی پیش کیں، ان کا حاصل یہ ہے کہ طواف میں قراءت کرنا خلافِ اَوْلیٰ ہے اور ذکر کرنا قراءت کرنے سے افضل ہے، چاہے ذکر ماثور ہو یا غیر ماثور، جیسا کہ اطلاق کا تقاضا ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 3، صفحہ 583، مطبوعہ کوئٹہ)
فتح القدیرمیں ہے: ’’لم یثبت عنہ فی الطواف قراءۃ بل الذکر و ھو المتوارث عن السلف و المجمع علیہ فکان اولی“ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے طواف کرتے ہوئے قراءت کرنا ثابت نہیں، بلکہ ذکر کرنا (ثابت ہے) اور یہی اَسلاف کا طریقہ رہا ہے، اور اسی پر اِجماع ہے، لہذا ذکر ہی اَولیٰ ہے۔ (فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 390، مطبوعہ کوئٹہ)
مناسک ملا علی قاری میں ہے: ’’(یکون فی طوافہ ۔۔۔ ذاکرا) ۔۔۔۔ ھو افضل من قراءۃ القرآن من حیث عملہ صلی اللہ علیہ و سلم فی الاطوفۃ الواقعۃ فی حجہ و عمرتہ“ یعنی طواف میں ذکر کرتا رہے، طواف کے دوران ذکر کرنا قرآن کی تلاوت سے اس اعتبار سے افضل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے حج و عمرے کے طوافوں میں یہی عمل کیا۔ (ملتقطا مناسک ملا علی قاری، صفحہ 190، مطبوعہ مکۃ المکرمہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
مصدق: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
فتویٰ نمبر: Nor-12306
تاریخ اجراء: 22 ذو الحجۃ الحرام 1443ھ / 22 جولائی 2022ء