logo logo
AI Search

کیا سعی کے لئے وضو ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بے وضو سعی کرنے سے دم لازم ہوگا یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی بے وضو سعی کی تو اس پر دم لازم آئے گا یا نہیں؟

جواب

سعی کے درست ہونے کے لئے وضو شرط نہیں لہٰذا اگر کسی نے بے وضو سعی کرلی، تو اس پر دم لازم نہیں ہوگا، البتہ مستحب یہ ہے کہ باوضو سعی کی جائے۔

ہندیہ میں ہے: ”و الأصل أن كل عبادة تؤدى لا في المسجد من أحكام المناسك فالطهارة ليست من شرطها كالسعي“ یعنی اور اس میں اصل یہ ہے کہ احکام مناسک میں سے ہر وہ عبادت جو مسجد میں نہ ادا کی جاتی ہو اس میں طہارت شرط نہیں جیسے سعی ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 227، دار الفکر، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: مستحب یہ ہے کہ باوضو سعی کرے۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 1110، مکبتۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1128
تاریخ اجراء: 17 جمادی الاول 1445ھ / 02 دسمبر 2023ء