logo logo
AI Search

احرام کی چادر کسی اور کی چادر سے تبدیل ہو جانے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احرام کی چادر کسی اور کی چادر سے تبدیل ہو جائے تو کیا کریں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے عمرہ ادا کیا ،عمرہ ادا کرنے کے بعد میرے احرام کی ایک چادر کسی بھائی کے ساتھ غلطی سے بدل گئی ہے، مجھے دوبارہ عمرہ کرنے کے لے احرام کی نئی چادریں لینا ضروری ہے، یا انہی چادروں میں عمرہ کر سکتا ہوں ؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

اگر بے توجہی یا غلطی کی وجہ سے آپ کے احرام کی چادر کسی دوسرے کی چادر سے بدل گئی ہے، تو وہ شرعی اعتبار سے "لقطہ" (گمشدہ / گری پڑی چیز) کے حکم میں ہے، ایسی صورت میں ضروری ہے کہ اس کی تشہیر کی جائے، اور اصل مالک تک پہنچانے کی ممکنہ کوشش کی جائے، جب تک مالک کا پتا نہ چل جائے، آپ اسے اپنے پاس بطور امانت محفوظ رکھیں، یا کسی فقیرِ شرعی کو صدقہ کر دیں۔ لقطہ کو ذاتی استعمال میں لانے کی اجازت صرف اس شخص کو ہے جو خود "فقیرِ شرعی" ہو، اور وہ بھی اس صورت میں جب وہ مالک کی تلاش کے لیے تشہیر کر چکا ہو۔ لہذا اگر آپ غنی (صاحبِ نصاب) ہیں، تو آپ اس بدلی ہوئی چادر کو اپنے استعمال میں نہیں لا سکتے، بلکہ تشہیرکے بعد اسے صدقہ کرنا ،یا محفوظ رکھنا ضروری ہے، اس لیے اس صورت میں اگر آپ کے پاس ، احرام کی اور چادریں  نہ ہوں ،اور آپ غنی (صاحب نصاب) ہیں،تو آپ اس کی جگہ نئی چادر لیں، یا عارضی طور پر کسی سے اس کی اجازت سے لے لیں۔ اور اگر آپ غنی نہیں ہیں، تو اس چادر کو تشہیر کے بعد مالک نہ ملنے کی صورت میں استعمال کر سکتے ہیں، اور اگر یہ شبہہ ہو رہا ہو کہ کسی کی استعمال شدہ چادر ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ پاک صاف چادر اگرچہ کسی کی استعمال شدہ ہو احرام میں استعمال کر سکتے ہیں ۔

علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ /1836 ء) لکھتے ہیں: ’’أما لو أخذ مكعب غيره وترك مكعبه غلطا لظلمة أو نحوها ويعلم ذلك بالقرائن فهو في حكم اللقطة لا بد من السؤال عن صاحبه بلا فرق بين أجود وأدون وكذا لو اشتبه كونه غلطا أو عمدا لعدم دليل الإعراض‘‘ ترجمہ: اگر کسی نے غلطی سے مثلاً: اندھیرے یا کسی بھی وجہ سے دوسرے کا جوتا پہن لیا، اور اپنا چھوڑ گیا، اور یہ چیز قرائن سے معلوم ہو کہ غلطی سے ایسا ہوا ہے، تو یہ جوتا لقطے کے حکم میں ہے، چنانچہ جوتے کے ادنیٰ یا اعلیٰ ہونے کے فرق کے بغیر، اِس جوتے کے مالک کے متعلق تفتیش کرنا ضروری ہے، یونہی اگر معاملہ مشتبہ ہو کہ اٹھانے والے نے غلطی سے جوتا اٹھایا ہے یا جان بوجھ کر تو اِس صورت میں بھی لقطے کا ہی حکم ہے، کیونکہ چھوڑنے والے کی طرف سے اِعراض کی کوئی دلیل نہیں پائی جا رہی۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 6، صفحہ 438، مطبوعہ: کوئٹہ)

لقطے کے استعمال کے متعلق علامہ محمد بن ابراہیم حلبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 956ھ / 1049ء) لکھتے ہیں: ’’للملتقط أن ينتفع باللقطة بعد التعريف لوفقيرا وإن غنيا تصدق بها ولو على أبويه أو ولده أو زوجته لو فقراء‘‘ ترجمہ:لقطہ اٹھانے والے کو اپنی ذات کے لیے بھی حق حاصل ہے کہ وہ اچھی طرح تشہیر وغیرہ کرکے اپنی ذات پر ہی خرچ کر لے، بشرطیکہ وہ خود فقیرِ شرعی ہو، اور اگر خود غنی ہے، تو اُسے کسی اور پر صدقہ کرے، خواہ ماں باپ پر، یا بیٹے پر، یا بیوی پر، بشرطیکہ یہ سب شرعی فقرا ہوں۔ (ملتقی الابحر مع مجمع الانھر، جلد 2، صفحہ 529، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5095
تاریخ اجراء: 25 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 11 جون 2026ء