logo logo
AI Search

حج و عمرہ کے احرام کی نیت کرتے وقت تلبیہ کا حکم؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احرام کی نیت کرتے وقت تلبیہ نہیں کہا، تو مُحرم ہوگا یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے دوست نے ایک مسئلہ بیان کیا کہ عمرہ میں نیت کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دفعہ تلبیہ یعنی لبیک اللّٰھم لبیک الخ کہنا ضروری ہوتا ہے، اگر کسی نے تلبیہ نہ کہا، تو اس کا عمرہ شروع ہی نہیں ہوگا۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا واقعی یہ بات درست ہے کہ بغیر تلبیہ کہے احرام باندھا، تو عمرہ شروع نہیں ہوگا؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔

جواب

جی ہاں! یہ بات درست ہے کہ احرام میں داخل ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ حج یا عمرہ میں سے کسی ایک منسک (یعنی عبادت) کو ادا کرنے کی نیت کرنے کے ساتھ ساتھ تلبیہ یعنی لبیک اللّٰھم لبیک یا اس کے قائم مقام ذکر اللہ کرنا، ضروری ہے اور تلبیہ یا تلبیہ کے قائم مقام ذکر کرتے وقت احرام کی نیت کا ہونا بھی ضروری ہے، صرف ذکر اللہ کی نیت کرنے سے تلبیہ شمار نہیں ہوگا۔ اگر کسی شخص نے احرام کی نیت کرنے کے ساتھ تلبیہ یعنی لبیک اللّٰھم لبیک یا کوئی ذکر اللہ احرام کی نیت سے نہ کیا، بلکہ ذکر اللہ کی نیت کی، تو ایسا شخص مُحْرِم نہیں کہلائے گا اور نہ ہی ایسے شخص کا عمرہ ادا ہوگا، البتہ یہ یاد رکھیں کہ تلبیہ میں خاص لبیک اللّٰھم لبیک کہنا سنت ہے۔

احرام کی شرائط میں سے ایک شرط تلبیہ کہنا بھی ہے، اس کے متعلق جزئیات درج ذیل ہیں۔

فتاوی ہندیہ میں احرام کی شرائط وغیرہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’لبیک اللّٰھم لبیک لبیک لا شریک لک الخ۔ و ھی مرۃ شرط و الزیادۃ سنۃ ۔۔۔ اماشرطہ فالنیۃ حتی لا یصیر محرما بالتلبیۃ بدون نیۃ الاحرام و لا یصیر شارعا بمجرد النیۃ ما لم یات بالتلبیۃ او ما یقوم مقامھا من الذکر“ ترجمہ: لبیک اللّٰھم لبیک لبیک لاشریک لک(آخر تک) ایک مرتبہ کہنا شرط اور ایک سے زیادہ مرتبہ کہنا سنت ہے ۔۔۔ بہرحال احرام کی شرط، تو وہ نیت ہے، یہاں تک کہ احرام کی نیت کے بغیر تلبیہ کہنے سے محرم نہ ہوگا۔ اسی طرح صرف احرام کی نیت کرنے سے محرم نہیں ہوگا، جبکہ تک احرام کی نیت سے تلبیہ یا اس کے قائم مقام ذکر نہ کرلے۔ (فتاوی ھندیہ، جلد 1، صفحہ 222، مطبوعہ کوئٹہ)

امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رکن احرام کے صرف دو ہیں، دل سے نیت اور اس کے ساتھ زبان سے وہ ذکر جس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہو، خواہ لبیک یا کچھ اور مثل سبحان اللّٰہ یا الحمد للّٰہ یا اللّٰہ اکبر یا اللّٰھم اغفرلی و غیرذلک جب یہ دونوں باتیں پائی گئیں، احرام بندھ گیا اور جو کچھ مُحرم پر حرام تھا، حرام ہوگیا۔ پَر لبیک کہنا سنت اور مُحرِم کے لیے ہر ذکر سے بہتر ہے جہاں تک ہوسکے اس کی کثرت کرے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 779، 780، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

لبیک کہنا سنت اس عبارت پر فتاوی رضویہ کے حاشیہ میں ہے: وقع فی اللباب ان التلبیۃ مرۃ فرض و فی النھر و الدر انھا مرۃ شرط۔ قال القاری و ھو عند الشروع لاغیر، لکن التحقیق ان الفرض و الشرط انما ھو مطلق الذکر لاخصوص التلبیۃ کما حققہ فی البحر، قال: و قول من قال انھا شرط، مرادہ ذکر یقصد بہ التعظیم لا خصوصھا و تمامہ فی رد المحتار۔ اقول: و قد نص فی اللباب قبیل ما مر ان کل ذکر یقصد بہ تعظیم ﷲ سبحانہ یقوم مقام التلبیۃ۔ و فیہ فی صدر باب الاحرام شرائط صحتہ الاسلام و النیۃ و الذکر او تقلید البدنۃ ثم عد من سننہ تعیین التلبیۃ۔ قال القاری رحمۃ اللہ علیہ ھناک التلبیۃ او ما یقوم مقامھا من فرائض الاحرام عند اصحابنا و فی الدر یصح الحج بمطلق النیۃ و لو بقلبہ لکن بشرط مقارنتھا بذکر یقصد بہ التعظیم فانکشف الغطاء و الحمدللہ رب العٰلمین

 یعنی لباب میں مذکور ہے کہ تلبیہ ایک مرتبہ فرض ہے اور نہر الفائق اور دُر میں ہے کہ ایک بار شرط ہے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ صرف شروع میں ہے، لیکن تحقیق یہ ہے کہ فرض اور شرط تلبیہ نہیں، بلکہ مطلقاً ذکر ہے، جیسا کہ بحر میں اس کی تحقیق ہے۔ جن لوگوں نے تلبیہ کے شرط ہونے کا قول اختیار کیا، ان کی مراد یہ ہے کہ ایسا ذکر جس سے تعظیم کا قصد کیا جائے، نہ کہ خاص تلبیہ۔ مکمل بحث رد المحتار میں ہے۔ اقول: لباب میں پچھلی عبارت سے تھوڑا سا پہلے تصریح ہے کہ ہر وہ ذکر جس سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تعظیم کا قصد کیا جائے وہ تلبیہ کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اسی میں باب الاحرام کے شروع میں ہے کہ احرام کے صحیح ہونے کی شرط اسلام، نیت، ذکر یا بُدنہ کی تقلید ہے۔ پھر اس کی سنتوں میں تلبیہ کو ذکر کیا، ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ: ہمارے اصحاب کے نزدیک یہاں تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی ذکر، احرام کے فرائض میں سے ہے۔ دُر میں ہے کہ حج، مطلق نیت سے صحیح ہوجاتا ہے خواہ صرف دل سے نیت ہو، بشر طیکہ نیت کے ساتھ کوئی ایسا ذکر ہو جس سے تعظیم مقصود ہو۔ تو اس سے پردہ ہٹ گیا اورتمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو عالمین کا رب ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 779 تا 781، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

احرام کی شرائط کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے، صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تنہا نیت بھی کافی نہیں جب تک لبیک یا اس کے قائم مقام کوئی اور چیز نہ ہو۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1074، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

تلبیہ یا تلبیہ کے قائم مقام ذکر کرنے کے وقت احرام کی نیت کا ہونا ضروری ہے، اس کے متعلق جزئیات درج ذیل ہیں:

تلبیہ کے وقت احرام کی نیت کا ہونا ضروری ہے، جیسا کہ البحر العمیق، فتاوی تاتارخانیہ، محیط برھانی میں ہے: ”و اللفظ للمحیط: و اعلم بان الروايات قد اختلفت فی هذا الفصل، فی رواية ابن سماعة بمجرد النية لا يصير محرماً الا ان يلبی او يكبر او يذكر اللہ، يريد به الاحرام“ ترجمہ: تو جان کہ اس مسئلے میں روایات مختلف ہیں۔ ابن سماعہ کی روایت میں ہے کہ محض نیت سے محرم نہیں ہوگا، مگریہ کہ نیت کے ساتھ تلبیہ، تکبیر یا کوئی اور اللہ پاک کا ذکر کرے اور اس ذکر سے احرام کا ارادہ ہو۔ (محیطِ برهانی، جلد 2، صفحہ 420، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

النتف فی الفتاوی میں ہے: ”فاما الاحرام فهو التلبية مع وجود النية و هو على ثلاثة اوجه: احدها اذا نوى و لم يلب فليس بمحرم بالنية وحدها و الثانی ان لبى و لم ينو فليس بمحرم ايضا فی قول ابی حنيفة و اصحابه و هو محرم فی قول ابی عبد اللہ على نيته القديمة و الثالث ان لبى و نوى فهو محرم متفقا“ ترجمہ: بہر حال احرام یہ تلبیہ اور نیت کے موجود ہونے کے ساتھ تین صورتوں پر مشتمل ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ جب کسی شخص نے احرام کی نیت کی، لیکن تلبیہ نہیں کہا، تو وہ شخص فقط نیت سے محرم نہیں ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے تلبیہ کہا، لیکن احرام کی نیت نہیں کی، تو ایسا شخص بھی امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب علیہم الرحمۃ کے نزدیک محرم نہیں ہوگا، البتہ ابو عبد اللہ کے قول کے مطابق سابقہ نیت کے اعتبار سے محرم ہوگا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے تلبیہ کہا اور ساتھ میں احرام کی نیت بھی کی، تو ایسا شخص بالاتفاق محرم ہوگا۔ (النتف فی الفتاوی، صفحہ 207، مطبوعہ دار الفرقان)

احرام کے وقت تلبیہ کہنے کی حیثیت کے متعلق جو بحث فرمائی، اس بحث کے دوران معتمد قول کو بیان کرتے ہوئے ملا علی قاری لکھتے ہیں: ”فالمعتمد ما ذکرہ حسام الدین الشھید انہ یصیر شارعا بالنیۃ لکن عند التلبیۃ لا بالتلبیۃ کما یصیر شارعا فی الصلاۃ بالنیۃ لکن عند التکبیر لا بالتکبیر“ ترجمہ: معتمد قول وہ ہے جس کو حسام الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا کہ احرام شروع تو نیت سے ہوگا، مگر تلبیہ کے وقت ہوگا، فقط تلبیہ کے ساتھ محرم نہیں ہوگا، جیسا کہ نماز میں داخل تو نیت سے ہوگا مگر تکبیر کے وقت ہوگا صرف تکبیرسے نماز میں داخل نہیں ہوگا۔ (ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری، صفحہ 125، 126، مطبوعہ مکۃ المکرمہ)

صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: احرام کے لیے ایک مرتبہ زبان سے لبیک کہنا ضروری ہے اور اگر اس کی جگہ سُبْحٰنَ اللّٰہِ، یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یا کوئی اور ذکرِ الٰہی کیا اور احرام کی نیت کی، تو احرام ہوگیا، مگر سنت لبیک کہنا ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1074، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-2727
تاریخ اجراء: 14 جمادی الاولی 1444ھ / 09 دسمبر 2022ء