کیا حج قران کرنے والا حج سے پہلے حج کی سعی کرسکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج قران کرنے والے کا حج سے پہلےحج کی سعی کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا حج قران کرنے والا حج سے پہلے حج کی سعی کرسکتا ہے؟
جواب
قارِن (حج قران کرنے والا) بھی حج کی سعی حج سے پہلے کر سکتا ہے۔ اُسے چاہیے کہ مکہ آنے پر اولاً عمرہ کا طواف اور سعی کرے اور پھر طوافِ قدوم کرے اور اِس کے بعد حج کی سعی کرلے۔
27 واجباتِ حج کتاب میں ہے قارن کو حج کی سعی حج سے پہلے کرنا ہے تو مسنون یہ ہے کہ پہلے ایک طواف عمرہ کا اور ایک سعی عمرہ کی کرے پھر ایک طواف قدوم کا اور حج کی سعی کرے۔ (27 واجبات حج، صفحہ 60، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1733
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 09 جون 2023ء