logo logo
AI Search

عورت کا بغیر محرم کے عمرہ کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ہوٹل سے محرم کے بغیر جاکرعمرہ کے افعال ادا کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

دو عورتیں اپنے محرم کے ساتھ مکہ گئیں ہیں، ان کے محرم وہاں مکے میں قریبی ہوٹل میں موجود ہیں، کیا وہ عورتیں عمرے کی ادائیگی بغیر محرم کے کرسکتی ہیں؟

جواب

عورت کو محرم کے بغیر مسافتِ سفرِ شرعی (یعنی تین دن کی راہ جو کہ کلومیٹر کے حساب سے 92 کلومیٹر بنتی ہے) پر جانا ناجائز و حرام ہے، بلکہ فی زمانہ بعض فقہاء ایک دن کی مسافت سفر سے بھی منع کرتے ہیں۔ اور ایک دن سے کم کی مسافتِ سفر کے لئے محرم کے بغیر جانا گناہ تو نہیں، جبکہ کسی قسم کے فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور کامل پردے کی رعایت کے ساتھ نکلا جائے۔

لہٰذا بیان کردہ صورت میں قریبی ہوٹل سے خواتین کا مذکورہ شرائط کی رعایت کرتے ہوئے محرم کے بغیر عمرے کی ادائیگی كرنا جائز ہے۔ البتہ مناسب یہ ہے کہ محرم کے ساتھ ہی جائیں، جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو مقام تنعیم سے عمرے کا احرام باندھنے کا حکم دیا، تو ان کے بھائی حضرت عبد الرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا۔

صحیح بخاری میں ہے ”عن عائشة رضي اللہ عنها، أنها قالت: يا رسول اللہ، اعتمرتم و لم أعتمر، فقال: يا عبد الرحمن، اذهب بأختك، فأعمرها من التنعيم“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، آپ لوگوں نے عمرہ کرلیا لیکن میں نے نہیں کیا، تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اے عبد الرحمن اپنی بہن کو لے کر جاؤ اور مقام تنعیم سے انہیں عمرہ کروادو۔ (صحیح البخاری، ج 02، ص 133، رقم: 1518، دار طوق النجاۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-2303
تاریخ اجراء: 14 جمادی الثانی 1445ھ / 28 دسمبر 2023ء