حج کے ارکان میں رمی قربانی اور حلق میں ترتیب کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج میں رمی، قربانی اور حلق کی ترتیب کے متعلق تفصیل
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حج كرنے والے پر جو ترتيب واجب هے مثلاً 1 رمى 2 قربانى 3 حلق اگر وہ کسی وجہ سے قربانی پہلے کر ديتا هے اور پھر رمئ تو اس کا کیا حكم ہے؟
جواب
حاجی تین قسم کے ہیں ان میں سے حجِ افراد کرنے والے پر قربانی واجب نہیں جبکہ حجِ قران اور حجِ تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے۔ لہٰذا قارن اور متمتع حاجی سب سے پہلے 10 ذو الحجہ کو یعنی پہلے دن کی رمی اپنے وقت میں کرے گا پھر قربانی کرے گا اور اس کے بعد حلق یا تقصیر کرے گا۔ ان تینوں اُمور میں ترتیب واجب ہے۔ البتہ حجِ افراد والے پر قربانی واجب نہیں اس پر دو چیزوں میں ہی ترتیب واجب ہے کہ پہلے رمی کرے گا پھر حلق یا تقصیر۔
قران یا تمتع والے نے پہلے دن کی رمی، قربانی اور حلق و تقصیر میں ترتیب نہ رکھی یونہی حجِ اِفراد والے نے رمی اور حلق و تقصیر میں ترتیب نہ رکھی تو دَم واجب ہوگا۔
اگرمُفرِد نے اپنی قربانی رمی سے پہلے یا حلق کے بعد کی تو کوئی مضائقہ نہیں مگر اس کے لئے مستحب یہ ہے کہ اگروہ قربانی کرے تو وہ بھی اپنی قربانی حلق سے پہلے اور رمی کے بعد کرے۔ (ملخص از 27 واجبات حج، ص 113، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1767
تاریخ اجراء: 03 ذو الحجۃ الحرام 1444ھ / 22 جون 2023ء