logo logo
AI Search

عذر کی وجہ سے مسجد عائشہ سے بغیر احرام کے آنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مکہ مکرمہ سے مسجدِ عائشہ جا کر واپسی بلا احرام مکہ میں آجانے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی اسلامی بہن مکہ مکرمہ سے مسجد عائشہ جائیں لیکن کسی عذر کی وجہ سے یا ویسے ہی بغیر احرام مکہ واپس آجائیں تو کیا ان پر کوئی دم لازم ہوگا یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں ان پرکوئی دم لازم نہیں ہوگا۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ مسجد عائشہ حل میں ہے، اور مکہ مکرمہ سے جب کوئی حل کی طرف جائے تو واپس حرم آتے ہوئے اگر عمرہ یا حج کا ارادہ نہ ہو تو احرام ضروری نہیں، بلا احرام آسکتے ہیں۔ لہٰذا مذکورہ اسلامی بہن جب عمرہ یا حج کا ارادہ کیے بغیر مسجد عائشہ سے مکہ مکرمہ بلا احرام آئی تو کسی قسم کی جنایت نہیں ہوئی، اس لیے دم بھی لازم نہیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے: ”المکی اذا خرج الی الحل للاحتطاب او الاحتشاش ثم دخل مکۃ یباح لہ الدخول بغیر احرام و کذلک الآفاقی اذا صار من اھل البستان“ یعنی مکہ مکرمہ کا رہائشی جب حل کی طرف لکڑیاں چننے یا گھاس جمع کرنے نکلا پھر مکہ میں داخل ہوا تو اس کے لیے بغیر احرام داخل ہونا مباح ہے، یونہی آفاقی شخص جب اہل بستان والوں میں ہوجائے تو اس کا حل سے مکہ بغیراحرام داخل ہونا جائز ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 221، مطبوعہ: پشاور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جو لوگ میقات کے اندر کے رہنے والے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ اگر حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو بغیر احرام مکہ معظمہ جاسکتے ہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1068، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-812
تاریخ اجراء: 04 جمادی الثانی 1444ھ / 28 دسمبر 2022ء