logo logo
AI Search

کیا حیض کی حالت میں سعی کرنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حیض کی حالت میں سعی کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں نے پاکی کی حالت میں عمرہ کی نیت کی اور طواف بھی پاکی کی حالت میں کیا مگر طواف کے بعد جب سعی شروع کی تو حیض آگیا اور میں نے اسی حالت میں سعی کرلی تو کیا یہ سعی ہوجائے گی؟

جواب

آپ کی سعی ادا ہوگئی کیونکہ سعی کے لیے طہارت واجب نہیں، اور مسعی یعنی جہاں سعی کی جاتی ہے وہ خارج مسجد ہے اسی لیے حائضہ، نفساء اور جنب کو مسعی میں آنے اور سعی کرنے کی اجازت ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے ’’الحيض و الجنابة لا يمنعان صحة السعى‘‘ ترجمہ: حيض و جنابت صحت سعی سے مانع نہیں ہیں۔ (فتاوی عالمگیری، ج 1، ص 227، دار الكتب العلمیة، بیروت)

ارشاد الساری میں ہے ’’ان حصول الطواف علی الطهارة عن حدث الاكبر شرط جواز السعى، سواء كان طاهرا وقت السعى ام لا‘‘ ترجمہ: حدث اکبر سے پاکی کے ساتھ طواف کا ادا ہونا سعی کے جواز کے لیے شرط ہے، چاہے وقت سعی پاک ہو یا نہ ہو۔ (ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری، ص 251، مکتبہ امدادیہ)

بہار شریعت میں ہے سعی کے لیے طہارت شرط نہیں، حیض والی عورت اور جنب بھی سعی کر سکتا ہے۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 6، ص 1109، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-889
تاریخ اجراء: 08 محرم الحرام 1446ھ / 15 جولائی 2024ء