کیا عورت استحاضہ کی حالت میں عمرہ کرسکتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
استحاضہ کی حالت میں عمرہ کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عورت استحاضہ کی حالت میں عمرہ کرسکتی ہے؟
جواب
استحاضہ میں آنے والا خون، بیماری کا خون ہوتا ہے، اس کے وہ احکام نہیں جو حیض و نفاس میں آنے والے خون کے احکام ہوتے ہیں۔ لہذا فی نفسہ عورت استحاضہ کی حالت میں عمرہ کرسکتی ہے، اور طواف کیلئے مسجد الحرام میں بھی داخل ہوسکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ استحاضہ میں آنے والا خون ناپاک ہوتا ہے اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اورعمرہ میں چونکہ طواف بھی کرنا ہوتا ہے اورطواف چاہے وہ کسی قسم کا ہو اُس کیلئے طہارتِ حکمیہ کا پایا جانا یعنی غسل اور وضو سے ہونا واجب ہے اور بے وضو طواف کرنا حرام ہے، لہذا استحاضہ والی عورت کو اگر طواف کے دوران استحاضہ کا خون آئے تو اب اُس کیلئے کیا حکم ہوگا؟ اس میں کچھ تفصیل ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہے۔
اگرعورت کو استحاضہ کا خون اس طرح مسلسل آرہا ہو کہ نماز کا پورا وقت گزر گیا ہو لیکن وہ کوشش کرنے کے باوجود اُس پورے وقت میں وضو کر کے نمازِ فرض ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو اب ایسی صورت میں وہ عورت شرعاً معذور قرار پائے گی اور اب نماز کی طرح طواف کیلئے بھی اُسے یہی حکم ہوگا کہ وہ نماز کے کسی وقت میں ایک بار وضو کرلے اور اب اس وضو سے طواف ادا کرے اور اب طواف کے دوران استحاضہ کاخون نکلنے کے سبب اُس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، ہاں اس کے علاوہ کوئی اور وضو توڑنے والی چیز پائی گئی تو وضو ٹوٹ جائے گا، یونہی جب فرض نماز کا وقت نکل جائے گا تو بھی وضو ٹوٹ جائے گا، لہذا ایسی عورت اگر طواف کر رہی ہو اور چار پھیروں کے بعد نماز کا وقت ختم ہوجائے تو اب اسے حکم ہے کہ دوبارہ وضوکرے اور جہاں سے طواف چھوڑا تھا وہاں سے ادا کرے کیونکہ جب نماز کا وقت ختم ہوگیا تو اُس کا وضو ٹوٹ گیا، اب اگر اسی حالت میں طواف کرے گی تو یہ بغیر وضو طواف کہلائے گا اور بغیر وضو طواف حرام ہے۔ اسی طرح اگر طواف کے چار پھیروں سے پہلے وقت ختم ہوگیا ہو جب بھی وضو کر کے باقی کو پورا کرے، ہاں اس صورت میں افضل یہ ہے کہ طواف کے ساتوں پھیرے نئے سرے سے شروع کرے۔
اور اگر استحاضہ والی عورت شرعاً معذور نہ ہو یعنی عورت کو استحاضہ کا خون اس حد تک نہ آرہا ہو کہ جو اسے معذور شرعی بنادے تو ایسی صورت میں اُسے بھی ایک نارمل شخص کی طرح طواف کیلئے وضو سے ہونا ضروری ہوگا اور دورانِ طواف جب جب خون آئے تو وضو ٹوٹ جانے کی وجہ سے ہر بار طواف کو وہیں چھوڑ کر، نیا وضو کرکے طواف کرنا ہوگا۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1862
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1445ھ / 01 اگست 2023ء