فصیحہ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچی کا نام فصیحہ رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
فصیحہ، نام رکھنا کیسا؟
جواب
فصیحہ نام رکھنا جائز ہے، فصیحہ، فصیح کا مؤنث کا صیغہ ہے، اور فصیح کا معنیٰ ہے: صاف وشستہ کلام کرنےوالا، فصیح الکلام، خوش گفتار، کلام میں اچھے برے کی تمیز کرنے والا۔ لہذا معنیٰ کے اعتبارسے یہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔
قاموس الوحید میں ہے ”الفصیح: صاف و شستہ کلام کرنے والا، فصیح الکلام، خوش گفتار، کلام میں اچھے برے کی تمیز کرنے والا۔ (قاموس الوحید، صفحہ 1234، مطبوعہ: لاہور)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء اللہ بخشا جائے گا۔ ( مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب نام رکھنے کے احکام پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔ دئے گئے لنک سے یہ کتاب ڈاؤن لوڈ بھی کی جا سکتی ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5093
تاریخ اجراء: 30 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 16 جون 2026ء