logo logo
AI Search

بچی کا نام نور مدینہ رکھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

بچی کا نام نور مدینہ رکھنا 

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

معنی کے اعتبار سے بچی کا یہ نام رکھنا جائز ہے کہ نور کا معنی روشی ہے اورمدینہ کا معنی شہر ہے، دونوں کو ملا کر معنی کیا جائے، تو معنی ہو گا شہر کا نور، لیکن ہمارے ہاں عموما مدینہ کا لفظ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے شہر مبارک کے لیے بولا جاتا ہے، اس لحاظ سے نورِ مدینہ کا معنی مدینے کی روشنی ہو گا اور اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ بچیوں کے نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، صحابیات رضی اللہ عنہن اورنیک خواتین کے نام پررکھا جائےکہ اس کی وجہ سے نام کی برکت اوران بزرگ ہستیوں کی برکت بھی شامل حال ہو گی؛ کیونکہ احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اچھے نام رکھنے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی ہے۔

نور کے معنی کے متعلق المنجد میں ہے روشنی۔ (المنجد، صفحہ 937، خزینہ علم و ادب، لاہور)

مدینہ کے معنی کے متعلق اسی میں ہے شہر۔ (المنجد، صفحہ 827، خزینہ علم و ادب، لاہور)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام،اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل،عثمان،علی،حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء اللہ بخشا جائے گا۔ ( مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب نام رکھنے کے احکام پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5194
تاریخ اجراء: 29 محرم الحرام 1448ھ / 15 جولائی 2026ء