logo logo
AI Search

علایہ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بیٹی کا نام عَلایہ رکھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اللہ پاک نے بیٹی سے نوازا ہے، ہم نے اس کا نام عَلایہ رکھنے کا سوچا ہے، شرعی اعتبار سے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

عَلایہ دراصل عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے بلند جگہ لہٰذا اس اعتبار سے بچی کا یہ نام رکھنا جائز ہے۔ البتہ بہتریہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلم کی ازواج مطہرات، صاحبزادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔

تاج العروس میں ہے: العلاية: كل موضع مرتفع" ترجمہ: علایہ: ہر بلند جگہ۔ (تاج العروس، جلد 39، صفحہ 87، دار الھدایہ)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2493
تاریخ اجراء: 06 ربیع الآخر 1447ھ / 30 ستمبر 2025ء