logo logo
AI Search

رسول اللہ ﷺ حاضر ناظر ہیں تو فرشتوں درود کیوں پہنچاتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر ہیں، تو فرشتے درود کیوں پہنچاتے ہیں ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید یہ کہتا ہے کہ اگر حاضر و ناظر کا عقیدہ مان لیا جائے، تو پھر جو حدیثِ پاک میں مذکور ہے: ”مَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ نَائِيًا وُكِّلَ بِهَا مَلَكٌ يُبَلِّغُنِي“ یعنی اگر کوئی میری قبرِ انور کے پاس درود پڑھے، تو میں خود سماعت کرتا ہوں، اور اگر کوئی مجھ پر دور سے درود پڑھے، تو اس پر ایک فرشتہ مقرر ہے جو اس درود کو مجھ تک پہنچا دیتا ہے۔ (کنز العمال، ج 1، ص 498، حدیث نمبر 2197) اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ دور سے پڑھا گیا درود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا جاتا ہے، یہ بات تو حاضر و ناظر کے مؤقف کے خلاف نظر آتی ہے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر کیسے ہوئے؟ تفصیل سے بیان کریں۔

جواب

سوال میں بیان کردہ حدیثِ مبارک سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صفت ”حاضر و ناظر“ پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکتا، جس کی وجوہات درج ذیل ہیں :

اولاً یہ کہ سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ زید حاضر و ناظر کے درست معنی سے ناواقف ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ حاضر و ناظر کا معنی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جسمانی طور پر ہر جگہ موجود ہیں، حالانکہ اہلِ سنت کے نزدیک یہ معنی قطعاً مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم اپنے جسم مبارک کے ساتھ روضہ اقدس میں تشریف فرما ہیں اور تمام کائنات آپ کے سامنے حاضر ہے، جب چاہیں نظر فرما لیں اور اللہ پاک کی عطا سے آپ جب چاہیں جہاں چاہیں تشریف لے جا سکتے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ جانا چاہیں تو بھی نہ جا سکیں۔ لہٰذا اس حدیثِ پاک کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے پر اعتراض کرنا درست نہیں۔

ثانیاً یہ کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں فرشتوں کے ذریعے درود و سلام کا پیش کیا جانا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کے منافی نہیں، کیونکہ کسی چیز کا فرشتوں کے ذریعے پیش کیا جانا اس بات کی دلیل نہیں بنتا کہ جس کی بارگاہ میں یہ چیز بھیجی جا رہی ہے، اسے اس کا علم نہیں، جیسا کہ اس کی واضح مثال خود اللہ تعالیٰ کی شان میں موجود ہے، احادیثِ مبارکہ میں ہے کہ فرشتے بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں، تو کیا معاذ اللہ اس سے یہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کو خود علم نہیں؟ ایسا ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ خود سمیع و بصیر اور علیم و خبیر ہے، پہلے سے ہی ہر چیز کو جاننے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ لیکن فرشتوں کے اس نظام میں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بندوں کی عزت افزائی ہے۔ بعینہٖ یہی معاملہ درود و سلام کا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بنفسِ نفیس بھی درود و سلام سماعت فرماتے ہیں اور فرشتے بھی اسے بارگاہِ اقدس میں پیش کرتے ہیں، لہٰذا دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں۔

ثالثاً یہ کہ سوال میں بیان کردہ روایت سے یہ سمجھنا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قریب سے ہی سنتے ہیں، دور سے نہیں سنتے یا یہ سمجھنا کہ دور سے پڑھے گئے درود ِپاک کو سننے کے لئے فرشتوں کے محتاج ہیں، ہرگز درست نہیں، اس کی دو وجوہات ہیں:

 اولاً تو اس لیے کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ فرشتوں کا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درود پاک پہنچانا عدمِ قدرت کی وجہ سے نہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور اُمت کے شرف کے اظہار کے لیے ہے۔

ثانیاً اس لیے بھی کہ ذخیرۂ احادیث میں کئی ایسی احادیث موجود ہیں جن میں ثبوت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عطائے خداوندی سے بنفس ِنفیس دور و نزدیک ہر جگہ سے پڑھے گئے درود بھی سماعت فرماتے ہیں۔

اب بالترتیب جزئیات ملاحظہ فرمائیں:

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کے معنی کے بارے میں علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”قد وقع في كلمات أئمة المسلمين إطلاق الحاضر والناظر في شأن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وليس معناه أنه موجود بمرأى من كل شخص باعتبار جسمه الشخصى والبشرية المطهرة، بل المقصود أنه في المكانة العليا من حضرة اللہ تعالى ومع ذلك يلاحظ جميع الكائنات مثل كفه، ويمكن أن يتجلى في آن واحد في أمكنة متعددة: وأن الأولياء الكبار رحمهم اللہ تعالى يشاهدون جماله المقدس فى منامهم ويقظتهم، والنبي يشرفهم ويسعدهم بنظر الرحمة والعناية، فمعنى كونه حاظرا أنه حاضر في حرم اللہ المحترم، وبمرأى من غلمانه الأصدقاء، ومعنى كونه ناظرا أنه يشاهد أعمال أمته“

ترجمہ: ائمۂ مسلمین کے کلمات میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں حاضر و ناظر کا اطلاق آیا ہے اور اس کا یہ معنی نہیں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذاتی جسمانی حیثیت اور بشری صورت کے اعتبار سے ہر شخص کے سامنے موجود ہوں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بارگاہِ الٰہی میں بلند مقام پر فائز ہیں اور اس کے باوجود تمام کائنات کو اس طرح ملاحظہ فرماتے ہیں جیسے ہتھیلی پر رکھی ہوئی چیز کو دیکھا جاتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیک وقت متعدد مقامات پر تجلی فرمائیں۔ نیز اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اپنے خوابوں اور بیداری دونوں حالتوں میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جمالِ مقدس کا مشاہدہ کرتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نظرِ رحمت و عنایت سے انہیں نوازتے اور سعادت بخشتے ہیں۔ لہٰذا حاضر ہونے کا معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے دربارِ محترم میں حاضر اور اپنے سچے غلاموں کے سامنے ہیں اور ناظر ہونے کا معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے اعمال کا مشاہدہ فرماتے ہیں۔ (من عقائد اھل السنۃ، ص 318، طبع من المحقق)

غزالی زماں علامہ سعید احمد کاظمی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جو لفظِ حاضر و ناظر بولا جاتا ہے، اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بشریتِ مطہرہ ہر جگہ ہر ایک کے سامنے موجود ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح روح اپنے بدن کے ہر جزو میں موجود ہوتی ہے اسی طرح روحِ عالم کی حقیقتِ منورہ ذراتِ عالم کے ہر ذرہ میں جاری و ساری ہے، جس کی بنا پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی روحانیت اور نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوتے ہیں اور اہل اللہ اکثر و بیشتر بحالتِ بیداری اپنی جسمانی آنکھوں سے حضورکے جمالِ مبارک کا مشاہدہ کرتے ہیں اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بھی انہیں رحمت اور نظرِ عنایت سے مسرور و محظوظ فرماتے ہیں۔گویا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنے غلاموں کے سامنے ہونا سرکار کے حاضر ہونے کے معنی ہیں اور انہیں اپنی نظر مبارک سے دیکھنا حضور کے ناظر ہونے کا مفہوم ہے۔‘‘ (مقالات کاظمی، ج 3، ص 163، 164، مطبوعہ ضیائیہ ضیاء العلوم)

فرشتوں کے ذریعے درود پہنچانے کے متعلق مصنف عبد الرزاق میں ہے: ”عن ابن مسعود، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إن لله عز وجل ملائكة سياحين في الأرض ‌يبلغوني ‌عن ‌أمتي ‌السلام“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں جو میری اُمت کی طرف سے بھیجے گئے سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔ (المصنف عبد الرزاق، ج 2، ص 499، مطبوعہ دار التاصیل)

فرشتوں کے ذریعے درود و سلام کا پیش کیا جانا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور اُمت کے شرف کے اظہار کے لیے ہے، چنانچہ شرح الزرقانی میں ہے: ”فيه تعظیم له صلى اللہ عليه وسلم، وإجلال لأمته، حيث سخر الملائكة الكرام لذلك“ ترجمہ: اس میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم اور آپ کی اُمت کی تکریم (عزت افزائی) کا بیان ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے معزز فرشتوں کو مقرر فرمایا ہے۔ (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، ج 7، ص 371، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کے درود پاک خود سماعت فرمانے والی احادیث اور ان پر شارحینِ حدیث کا کلام:

سنن ابو داؤد، مسند ابو یعلیٰ، شعب الایمان، مشکوٰۃ المصابیح اور دیگرِ کتبِ حدیث میں ہےکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صلوا علي، فإن صلاتكم ‌تبلغني ‌حيث ‌كنتم“ ترجمہ: مجھ پر درود پڑھو بیشک تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے، تم جہاں کہیں بھی ہو۔ (سنن ابي داؤد، ج 2، ص 218، مطبوعہ المكتبة العصريہ، بیروت)

مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت علامہ علی قاری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”قال الطيبي: وذلك أن النفوس الزكية القدسية إذا تجردت عن العلائق البدنية عرجت ووصلت بالملأ الأعلى، ولم يبق لها حجاب، فترى الكل كالمشاهد بنفسها، أو بإخبار الملك لها“ ترجمہ: علامہ طیبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکیزہ اور مقدس ارواح جب جسمانی تعلقات سے آزاد ہو جاتی ہیں، تو بلند ترین ملأ اعلیٰ تک عروج کرتی ہیں اور ان کے لیے کوئی پردہ باقی نہیں رہتا، لہٰذا وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کی طرح دیکھتی ہیں یا فرشتوں کے ذریعے انہیں بتایا جاتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج 2، ص 744، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

سنن ابو داؤد میں ہے: ”عن أبي هريرة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: ما من أحد يسلم علي إلا ‌رد اللہ ‌علي ‌روحي حتى أرد“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی مجھ پر سلام عرض کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد، ج 3، ص 384، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیہ)

شیخ الاسلام، علّامہ تقی الدین علی سُبکی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”ذكره الحافظ أبو بكر البيهقي: أن المعنى: إلا وقد رد اللہ علي روحي، يعني: أنَّ النبي له بعد ما مات ودفن، رد اللہ عليه روحه لأجل سلام من يُسلّم عليه، واستمرت في جسده صلى اللہ عليه وسلم“ ترجمہ: حافظ ابو بکر بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ذکر فرمایا: (حدیثِ پاک میں مذکور) ان الفاظ ”مگر اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وصالِ ظاہری اور تدفین کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی روحِ مبارکہ کو آپ کے جسمِ اقدس میں لوٹا دیا، تاکہ جو شخص بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کا جواب عنایت فرمائیں اور یہ سلسلۂ فیض رسانی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر میں برابر جاری و ساری ہے۔ (شفاء السقام، ص 182، مطبوعہ دارا لکتب العلمیہ، بیروت)

مزید ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ”قد تضمنت الاحادیث المتقدمۃ: ان روح النبی صلی اللہ علیہ وسلم ترد علیہ، وانہ یسمع ویرد السلام“ ترجمہ: احادیثِ مذکورہ اس بات کو متضمن ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی روح مبارک آپ پر لوٹا دی گئی ہے اور بے شک آپ سلام کو سنتے ہیں اور اس کا جواب مرحمت فرماتے ہیں۔ (شفاء السقام، صفحہ 390، مطبوعہ دارا لکتب العلمیہ، بیروت)

اُمتی جہاں سے بھی درودِ پاک پڑھے، اس کی آواز سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتی ہے، چنانچہ امتاع الاسماع میں ہے: ”عن أبي الدرداء قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أكثروا الصلاة على يوم الجمعة فإنه يوم مشهود، تشهده الملائكة ليس من عبد ‌يصلي ‌عليّ ‌إلا ‌بلغني صوته حيث كان، قلت: وبعد وفاتك؟ قال: وبعد وفاتي، إن اللہ حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء“ ترجمہ: حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ یہ حاضری والا دن ہے، اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو بھی بندہ مجھ پر درود پڑھتا ہے، اس کی آواز مجھے پہنچتی ہے وہ جہاں کہیں بھی وہ ہو۔ میں نے عرض کی: آپ کی وفات کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میری وفات کے بعد بھی، بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے اجسام کو کھانا حرام فرما دیا ہے۔ (امتاع الاسماع، ج 11، ص 65، دار الکتب العلمیہ )

سوال میں مذکور  اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مفسر شہیر، حکیم الاُمت، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”اس حدیث میں یہ کہاں ہے کہ درود ہم نہیں سنتے۔ مطلب بالکل ظاہر ہے کہ قریب والے کا درود تو صرف خود سنتے ہیں اور دور والے کا درود سنتے بھی ہیں اور پہنچایا بھی جاتا ہے ہم حاضر و ناظر کے ثبوت میں دلائل الخیرات کی وہ روایت پیش کر چکے ہیں کہ اہلِ محبت کا درود تو ہم بنفس نفیس خود سن لیتے ہیں۔ اور غیر محبت والوں کا درود پہنچا دیا جاتا ہے، تو دور و قریب سے مراد دلی دوری قریبی ہے نہ کہ مسافت کے لحاظ سے۔۔۔ پہنچائے جانے سے لازم نہیں آتا کہ آپ اس کو سنتے ہی نہیں، ورنہ ملائکہ بندوں کے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش کرتے ہیں تو کیا رب کو خبر نہیں۔ درود کی پیشی میں بندوں کی عزت ہے کہ درود پاک کی برکت سے ان کا یہ رتبہ ہوا کہ غلاموں کا نام شہنشاہ امام کی بارگاہ میں آ گیا۔ “ (جاء الحق، ص 153، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ، لاھور)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کا درود و سلام بنفسِ نفیس سماعت فرمانا اور ملائکہ کے ذریعے اس کا پہنچایا جانا دونوں حق ہیں، ان میں کوئی تعارض نہیں، بلکہ یہ آپ کی شانِ عظمت، رفعتِ مقام اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا خوبصورت نظام ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو الفیضان عرفان احمد مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10014
تاریخ اجراء: 04 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 21 مئی 2026ء