logo logo
AI Search

حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے منکر کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضرات ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی خلافت کے منکر کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حضرت ابو بکر صدیق و عمرِ فاروق رضی الله عنھما کی خلافت کا منکر کافر ہے؟

جواب

حضرات شیخین یعنی حضرت ابو بکر ا ور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی خلافت کا منکر بد مذہب و گمراہ ہے، بلکہ فقہا کے نزدیک تو ایسا شخص کافر ہے۔ حاشيۃالطحطاوی على مراقی الفلاح میں فقہا کا قول ذکر کرتے ہوئے فرمایا: و إن أنكر خلافة الصديق كفر كمن أنكر الإسراء، لا المعراج۔ و ألحق في الفتح عمر بالصديق في هذا الحكم“ ترجمہ: اور اگر کوئی صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کا انکار کرے، تو اس کو کافر قرار دیا جائے گا، جیسے اسراء کا انکار کرنے والا کافر ہے، معراج کا نہیں۔ اور فتح میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی اس حکم میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 303، مطبوعہ: کوئٹہ)

لیکن راجح اور محتاط قول کے مطابق ایسا شخص کافر تو نہیں، لیکن گمراہ ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سید العالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے ان سب میں ان کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے ان کی ایک ایک بات پر یقین لانا ایمان ہے۔ ۔ ۔ اور اس میں ادنٰی شک لانا کفر،۔ ۔ ۔ پھر یہ انکار۔ ۔ ۔ دو طرح ہوتاہے، لزومی و التزامی، التزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شئی کا تصریحاً خلاف کرے یہ قطعا اجماعا کفر ہے۔ ۔ ۔ اس کے یہ معنی کہ جو انکار اس سے صادر ہوا یا جس بات کا اس نے دعوٰی کیا وہ بعینہ کفر و مخالف ضروریات دین ہو۔ ۔ ۔ اور لزومی یہ کہ جوبات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے یعنی مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات و تتمیم تقریبات کرتے لے چلئے تو انجام کار اس سے کسی ضرور دین کا انکار لازم آئے جیسے روافض کا خلافتِ حقہ راشدہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم حضرت جناب صدیق اکبر و امیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انکار کرنا کہ تضلیل جمیع صحابہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کی طرف مؤدی اور وہ قطعا کفر مگر انھوں نے صراحۃ اس لازم کا اقرار نہ کیا تھا بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہلبیت عظام وغیرہم چند اکابر کرام علی مولا ھم و علیہم الصلٰوۃ و السلام کو زبانی دعووں سے اپناپیشوا بناتے اور خلافت صدیقی و فاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکار رکھتے ہیں اس قسم کے کفرمیں علماء اہلسنت مختلف ہوگئے جنھوں نے مآل مقال و لازم سخن کی طرف نظر کی حکم کفر فرمایا اور تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بدعت و بدمذہبی و ضلالت و گمراہی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 15، ص 431، 432، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: باجماع صحابہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے جانشین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اس پر پوری امت کا اجماع ہے۔ ۔ ۔ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا۔ مثلاً اپنی وفات سے قبل امامت کے لیے مقرر فرمایا۔ ۔ ۔ حضرتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے سے انکار کرنا گمراہی ہے۔ (فتاویٰ شارح بخاری، ج 2، ص 13 تا 15، مکتبۃبرکات المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5109
تاریخ اجراء: 27 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 13 جون 2026ء