ایسٹر پر ڈسکاؤنٹ اور مبارک باد دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایسٹر (Easter) تہوار کے موقع پر ڈسکاؤنٹ لگانا اور مبارک باد دینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسٹر (Easter) کے موقع پر اپنی دکان میں ڈسکاؤنٹ لگانا اور غیر مسلم گاہکوں کو Happy Easter یا Happy Holy Week کہنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
ایسٹر(Easter) عیسائی مذہب کا بنیادی، قدیم اور مرکزی ترین تہوار ہے، جو عیسائی اپنے باطل نظریے کے مطابق حضرت عیسی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے مصلوب ہونے کے بعد تیسرے دن دوبارہ زندہ ہو جانے (Resurrection of Christ) کی یاد میں مناتے ہیں، اس عقیدے کو عیسائیت کی اصل قرار دیا جاتا ہے، جس کے بغیر مسیحی ایمان غیر معتبر مانا جاتا ہے۔ دراصل ایسٹر صرف ایک دن کے تہوار کا نام نہیں ،بلکہ اس کی رسومات کئی ہفتے پہلے شروع ہو جاتی ہیں، اس دورانیہ کو لینٹ (Lent) کہتے ہیں، جس میں مختلف سرگرمیاں سر انجام دی جاتی ہیں، مثلاً:روزہ رکھنا، مخصوص کھانوں سے پرہیز کرنا اور عبادات وغیرہ۔ لینٹ کے آخری ہفتے کو Holy Week کہا جاتا ہے جو اس تہوار میں سب سے اہم ہے، اس کا آغاز ان کے نظریات کے مطابق Palm Sunday یعنی حضرت عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے یروشلم میں داخلے کی یاد منانے سے ہوتا ہے، پھر Maundy Thursday یعنی آخری عشائیے کی یاد سے گزر کرباطل نظریے Good Friday یعنی مصلوب ہونے اور وفات پا جانے کے سوگ تک پہنچتا ہے، اور بالآخر Easter Sunday یعنی دوبارہ زندہ ہونے پر خوشی منانے اور مخصوص عبادات پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔ اگرچہ عبادات اور پابندیوں کی پاسداری کا رجحان کم ہو چکا ہے، لیکن پھر بھی اس تہوار کو مذہبی رنگ میں ہی بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ تاہم کرسمس کے برعکس ایسٹر کی کوئی مقررہ تاریخ نہیں ہوتی، بلکہ ہر سال یہ 21 مارچ کے بعد آنے والے پہلے پورے چاند کے بعد کے پہلے اتوار کو منایا جاتا ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے اس کی بنیادی چیزیں من گھڑت، بے بنیاد اور کفریہ امور پر مشتمل ہیں، قرآن کریم واضح اعلان فرماتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوٰۃ و السلام نہ شہید کیے گئے، نہ مصلوب ہوئے۔ اس حوالے سے اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسی روح اللہ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور اب تک آپ پر موت طاری نہیں ہوئی اور قرب قیامت میں آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام زمین پر نزول فرمائیں گے۔ بنیادی طور پر ایسٹر کا تہوار اس اسلامی عقیدے کے بالکل مخالف ہے۔
اس تفصیل سے یہ بات نہایت واضح ہوجاتی ہے کہ ایسٹر (Easter) کا تہوار عیسائیوں کا خالص مذہبی تہوار ہے اور ایک مسلمان کے لیے غیر مسلموں کے کسی بھی مذہبی تہوار میں کسی طرح سے شریک ہونے کی شرعاً اجازت نہیں، لہذا خاص ایسٹر کے نام پر دکان میں ڈسکاؤنٹ لگانا ممنوع و ناجائز اور گناہ ہے کہ یہ اس تہوار کی تائید کرنے اور اسے فروغ دینے کے مترادف ہے، جوکہ صورتاً اس میں شریک ہونے کی ایک صورت ہے۔ تاہم اگر کوئی اچھی بِکری کی خاطر ان دنوں سے پہلے یا بعد میں ڈسکاؤنٹ لگاتا ہے اور وہ ایسٹر کے نام پر بھی نہیں، نہ ہی ان دنوں کی تعظیم کے طور پر تو اس میں حرج نہیں، جبکہ جو سامان بیچ رہا ہے، وہ بھی اس تہوار کے ساتھ خاص نہ ہو۔
رہا گاہکوں کو ایسٹر پر مبارک باد دینا، مثلاً Happy Easter یا Happy Holy Week کہنا، تو یہ بھی ناجائز و گناہ ہے کہ یہ ان کے باطل نظریات پر اظہار مسرت کرنے، ان کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے اور ان کی موافقت و مشابہت کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
واضح رہے! ایسٹر کے نام پر خصوصی ڈسکاؤنٹ لگانا ہو یا اس کی مبارک باد دینا، اگر یہ اس تہوار کو اچھا جان کر یا غیر مسلموں کے دین کے باعث قابل تعظیم سمجھ کر ہو، تو اس پر حکم کفر ہے، لہذا ایک مسلمان کو اس کی حساسیت کے پیش نظر غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسی چیزوں سے قطعاً بچنا چاہیے، جو اس کے ایمان کے لیے خطرہ ہیں۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِۚ- وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰـكِنْ شُبِّهَ لَهُمْؕ- وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُؕ- مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّۚ- وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ ( 157) بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِؕ- وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا (158)﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا، حالانکہ انہوں نے نہ تو اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی، بلکہ ان (یہودیوں) کے لیے (عیسیٰ سے) ملتا جلتا (ایک آدمی) بنا دیا گیا اور بے شک یہ (یہودی) جو اس عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں، (حقیقت یہ ہے کہ) سوائے گمان کی پیروی کے ان کو اس کی کچھ بھی خبر نہیں اور بے شک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (پارہ 6، سورۃ النساء 4، آیت 157 - 158)
تفسیر صراط الجنان میں ان آیات کے تحت ہے: یہودیوں نے دعوی کیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کو قتل کر دیا ہے اور عیسائیوں نے اس کی تصدیق کی تھی، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تکذیب فرما دی؛ کیونکہ واقعہ یوں ہوا کہ جو منافق شخص یہودیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا پتہ دینے کے لیے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں داخل ہوا وہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کا ہم شکل ہو گیا اور آپ علیہ الصلوۃ و السلام آسمان پر تشریف لے گئے۔ یہودیوں نے اسی منافق کو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے دھوکے میں سولی دے دی، لیکن پھر خود بھی حیران تھے کہ ہمارا آدمی کہاں گیا، نیز اس کا چہرہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام جیسا تھا اور ہاتھ پاؤں مختلف۔ اس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہو رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ شک میں پڑ گئے اور یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے تھے کہ وہ مقتول کون ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ یہ مقتول حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، بعض کہتے ہیں کہ یہ چہرہ تو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کا ہے، لیکن جسم حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کا نہیں، لہذا یہ وہ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے صحیح سلامت آسمان پر اٹھائے جانے کے متعلق بکثرت احادیث وارد ہیں۔ (صراط الجنان، جلد 2، صفحہ 352 - 353، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: و الصحيح الثابت بالدلائل أنه عليه الصلوة و السلام رفع حياً و لم يطرأ عليه الموت إلى أن ينزل فيحكم الدين ثم يتوفى فيدفن مع رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم“ ترجمہ: اور صحیح بات جو دلائل سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں اور ان پر موت طاری نہیں ہوئی، یہاں تک کہ وہ نازل ہوں گے اور دین کو مضبوط فرمائیں گے، پھر اُن کا وصال ہوگا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔ (المعتمد المستند علی المعتقد المنتقد، صفحہ 305، دار اهل السنة، کراچی)
کفار سے قلبی یا دینی راہ و رسم کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور ظالموں کی طرف نہ جُھکو ورنہ تمہیں آگ چھوئے گی۔ (پارہ 12، سورۃ ھود 11، آیت 113)
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے: ﴿وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور بیشک اللہ تم پر کتاب میں یہ حکم نازل فرما چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ کسی دوسری بات میں مشغول نہ ہو جائیں، ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو جاؤ گے۔ (پارہ 5، سورۃ النساء 4، آیت 140)
علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 671ھ / 1273ء) لکھتے ہیں: فدل بهذا على وجوب اجتناب أصحاب المعاصي إذا ظهر منهم منكر لأن من لم يجتنبهم فقد رضي فعلهم و الرضا بالكفر كفر“ ترجمہ: پس اس آیت کے ذریعے یہ بات بتا دی گئی کہ گناہ کرنے والوں سے اجتناب واجب ہے، جب ان سے برائی ظاہر ہو رہی ہو؛ کیونکہ جو ان سے اجتناب نہیں کرتا، تو گویا وہ ان کے فعل پر راضی ہے، اور کفر پر راضی ہونا خود کفر ہے۔ (الجامع لأحكام القرآن، سورۃ النساء، جلد 5، صفحہ 418، دار الكتب المصرية، القاهرہ)
صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: کفار کی ہم نشینی اور ان کی مجلسوں میں شرکت کرنا ایسے ہی اور بے دینوں اور گمراہوں کی مجلسوں کی شرکت اور ان کے ساتھ یارانہ و مصاحبت ممنوع فرمائی گئی۔ (نیز) اس سے ثابت ہوا کہ کفر کے ساتھ راضی ہونے والا بھی کافر ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان، صفحہ 195، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مشرکین کے تہوار کی خوشی منانا، ان کے ایسے افعال ملعونہ میں شرکت کرنا، معصیت قطعیہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 166، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: اگر اُن (غیر مسلموں) کے مذہبی تہوار کو اچھا جان کر منائے گا، اسلام سے خارج ہو جائے گا … ورنہ فسق و معصیت ضرور ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 188، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: کفار کے تہواروں میں شریک ہونا حرام اور سخت حرام، بلکہ کفر ہے، خصوصاً جبکہ انہیں کے مثل ان کے تمام کاموں میں شرکت کرے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 151، مکتبہ رضویہ، کراچی)
علامہ محدث محمد عابد بن احمد سندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1257ھ / 1841ء) لکھتے ہیں: و الاعطاء اي اعطاء شيء اي اهداؤه باسم النيروز و المهرجان لا يجوز اي الهدايا باسم هذين اليومين بان يقول هدية هذا اليوم حرام . . . و ان قصد المهدي من الناس تعظيمه اي تعظيم يوم من هذين اليومين كما يعظمه المشركون يكفر افاد بهذا انه لو اهدي الى مشرك شيئا في هذا اليوم ولم يقصد به التعظيم بل جبر الخاطر و استجلاب المودة فلا يكفر“ ترجمہ: اور کسی کو کوئی چیز دینا یعنی نوروز اور مہرجان کے نام پر کسی کو تحفہ دینا، ناجائز ہے، یعنی ان دونوں دنوں کے نام سے تحفے دینا، اس طرح کہ تحفہ دینے والا کہے: آج کے دن کا تحفہ (ایسا کرنا) حرام ہے، اور اگر وہ تحفہ دینے والا شخص ان دنوں میں سے کسی دن کی تعظیم کا ارادہ کرے، جیسے مشرک لوگ اس کی تعظیم کرتے ہیں، تو وہ کافر ہو جائے گا۔ اس مسئلے سے یہ افادہ ہوا کہ اگر کوئی شخص اس دن کسی مشرک کو کوئی چیز تحفہ دے اور اس سے اس دن کی تعظیم مقصود نہ ہو بلکہ دلجوئی اور محبت چاہنا مقصود ہو، تو وہ کافر نہیں ہوگا (لیکن حرام ضرور ہے)۔ (طوالع الأنوار شرح الدر المختار، مسائل شتی، جلد 6، صفحہ 305 - 306، مخطوطه)
علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ / 1677ء) لکھتے ہیں: و لو أهدى لمسلم ولم يرد تعظيم اليوم بل جرى على عادة الناس لا يكفر و ينبغي أن يفعله قبله أو بعده نفيا للشبهة“ ترجمہ: اور اگر کسی مسلمان کو ہدیہ دیا اور اس دن کی تعظیم کا ارادہ نہ ہو بلکہ لوگوں کی عادت کے مطابق ایسا کیا ہو، تو وہ کافر نہیں ہوگا، البتہ مناسب یہ ہے کہ وہ یہ کام اس دن سے پہلے یا بعد میں کرے تاکہ (غیر مسلموں کے ساتھ) التباس نہ ہونے پائے۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، مسائل شتی، صفحہ 759، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) اسے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: و فی رد المحتار عن جامع الفصولین، الأولى للمسلمين أن لا يوافقوهم على مثل هذه الأحوال لإظهار الفرح و السرور اهـ. ذکرہ فی حق دعوۃ اتخذھا مجوسی لحلق راس ولدہ، قلت: و لیس ذلک شیئا من رسوم مذھبھم الباطل فماکان کذلک کان اولی بالاجتناب و اجدر و الامر واضح لا ینکر“ ترجمہ: رد المحتار میں جامع الفصولین کے حوالے سے منقول ہے کہ مسلمانوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اس جیسی صورتوں میں خوشی اور مسرت کے اظہار کے لیے غیر مسلموں کی موافقت نہ کریں۔ انہوں نے یہ بات اس دعوت کے بارے میں ذکر کی جو کسی مجوسی نے اپنے بچے کا سر منڈوانے کے موقع پر کی ہو۔ میں کہتا ہوں: حالانکہ یہ ان کے باطل مذہب کی رسومات میں سے کوئی چیز نہیں (پھر بھی ان کی موافقت سے بچنے کا فرمایا گیا) تو جو چیز ایسی (یعنی واقعی ان کے مذہبی معاملہ سے وابستہ ) ہو، وہ بدرجہ اولی اور زیادہ لائقِ اجتناب ہوگی، اور یہ معاملہ واضح ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 560 - 561، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
سنن ابی داؤد، مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ، مشکوۃ المصابیح وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: و اللفظ للاول عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: من تشبه بقوم فهو منهم“ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کسی قوم کے ساتھ مشابہت کرے تو وہ انہیں میں سے ہے۔ (سنن أبي داؤد، جلد 4، صفحہ 44، حدیث 4031، المكتبة العصريہ، بيروت)
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ /2000ء) لکھتے ہیں: مشرکانہ مذہبی تیوہاروں پر ہندوؤں کو مبارک باد دینا اشد حرام بلکہ منجر الی الکفر ہے۔ ... ظاہر ہے کہ مبارک باد دینا ہدیہ دینے سے کم نہیں۔ (فتاوی شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 567، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)
مفتی عبد الواجد نیّر قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1439ھ / 2018ء) لکھتے ہیں: اور (غیر مسلموں کے مذہبی تہوار پر) ہَدایا کی طرح مبارکبادیوں کا تبادلہ بھی حرام و ناجائز ہے، جس سے مسلمانوں کو بچنا ضروری ہے۔ (فتاوی یورپ، صفحہ 542، شبیر برادرز، لاھور)
علامہ شہاب الدین احمد بن محمد حموی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1098ھ /1687ء) لکھتے ہیں: اتفق مشايخنا أن من رأى أمر الكفار حسنا فقد كفر“ ترجمہ: ہمارے مشائخ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس شخص نے کفار کے کسی (مذہبی) معاملے کو اچھا سمجھا، وہ کافر ہو گیا۔ (غمز عيون البصائر، الفن الثاني، جلد 2، صفحہ 203، دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں: ان تعظيم النيروز و المهرجان و غيرهما أي: من أعياد الكفار منهي عنه . . . من اشترى فيه شيئا لم يكن يشتريه في غيره أو أهدى فيه هدية إلى غيره فإن أراد بذلك تعظيم اليوم كما يعظمه الكفرة فقد كفر و إن أراد بالشراء التنعم و التنزه و بالإهداء التحاب جريا على العادة لم يكن كفرا لكنه مكروه كراهة التشبه بالكفرة حينئذ فيحترز عنه“ ترجمہ: نوروز، مہرجان اور دیگر کفار کی عیدوں کی تعظیم ممنوع ہے۔ جو شخص ان دنوں میں کوئی ایسی چیز خریدے جو وہ ان کے علاوہ دنوں میں نہیں خریدا کرتا یا اس دن کسی اور کو تحفہ دے، تو اگر اس کے ذریعے اس دن کی تعظیم کا ارادہ ہو، جیسا کہ کفار اس کی تعظیم کرتے ہیں تو وہ کافر ہو جائے گا، اور اگر خریدنے سے آسائش و تفریح مقصود ہو اور تحفہ دینے سے رواج پر چلتے ہوئے محض باہمی محبت مقصود ہو، تو یہ کفر نہیں، لیکن کفار سے مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہوگا، لہذا اس سے احتراز کیا جائے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 3، صفحہ 1069، دار الفكر، بيروت)
امام حافظ الدین محمد بن محمد بزّازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 827ھ / 1424ء) لکھتے ہیں: إذا أرادوا تعظيم اليوم بذلك كفروا و إن أرادوا غيره فالأصوب و الأوجب تركه و كذا اجتماع المسلمين يوم فصح النصارى لو موافقة لهم كما يجتمعون في بلاد الروم على هذا الوجه يعلم حالهم مما ذكرنا“ ترجمہ: جب مسلمان اس (یعنی نوروز پر جمع ہونے اور تحفے تحائف کا لین دین کرنے) کے ذریعے اس دن کی تعظیم کا ارادہ کریں تو کافر ہو جائیں گے اور اگر کوئی اور ارادہ ہو تو بھی اس کام کو چھوڑ دینا زیادہ درست اور واجب تر ہے۔ اسی طرح عیسائیوں کی عید فِصح (یعنی ایسٹر) کے دن مسلمانوں کا جمع ہونا اگر عیسائیوں کی موافقت کے طور پر ہو، جیسا کہ وہ بلادِ روم میں اس صورت پر جمع ہوتے ہیں، تو ہماری بیان کردہ گفتگو سے ان کا حال معلوم ہو جاتا ہے (یعنی اس دن کی تعظیم کے طور پر جمع ہوں تو کفر ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور ارادہ ہو تو بھی اس سے اجتناب واجب ہے)۔ (الفتاوی البزازیہ، جلد 2، صفحہ 454، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ان کے تہواروں کے دن محض اس وجہ سے چیزیں خریدنا کہ کفار کا تہوار ہے یہ بھی کفر ہے، جیسے دیوالی میں کھلونے اور مٹھائیاں خریدی جاتی ہیں کہ آج خریدنا دیوالی منانے کے سوا کچھ نہیں، یوہیں کوئی چیز خرید کر اس روز مشرکین کے پاس ہدیہ کرنا جبکہ مقصود اس دن کی تعظیم ہو تو کفر ہے۔ مسلمانوں پر اپنے دین و مذہب کا تحفظ لازم ہے۔ (بھار شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 466، مکتبة المدینہ، کراچی)
عیسائیت کے مشہور انسائیکلوپیڈیا"The Catholic Encyclopedia" میں ہے:
Easter is the principal feast of the ecclesiastical year. Leo I calls it the greatest feast, and says that Christmas is celebrated only in preparation for Easter. … Commemorating the slaying of the true Lamb of God and the Resurrection of Christ, the corner-stone upon which faith is built, it is also the oldest feast of the Christian Church, as old as Christianity, the connecting link between the Old and New Testaments. … Easter Sunday is the first Sunday which occurs after the first full moon (or more accurately after the first fourteenth day of the moon) following the 21st of March. As a result, the earliest possible date of Easter is 22 March, the latest 25 April.
ترجمہ: ایسٹر کلیسیائی سال کا سب سے اہم تہوار ہے۔ پادری لیو اول اسے سب سے بڑا تہوار قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ کرسمس تو صرف ایسٹر کی تیاری کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ خدا کے حقیقی برّہ (مراد حضرت مسیح علیہ السلام) کی قربانی اور مسیح کے دوبارہ جی اُٹھنے کی یادگار ہے، جو کہ وہ اصل بنیاد ہے جس پر مسیحی ایمان قائم ہے۔ یہ مسیحی کلیسا کا قدیم ترین تہوار بھی ہے، اتنا ہی قدیم جتنی خود مسیحیت، نیز یہ عہدِ قدیم و عہدِ جدید کے درمیان جوڑنے والی کڑی (کی حیثیت رکھتا) ہے۔ ایسٹر سنڈے وہ پہلا اتوار ہوتا ہے جو 21 مارچ کے بعد آنے والے پہلے کامل چاند یا زیادہ درست طور پر یوں کہ اس چاند کی پہلی چودھویں تاریخ کے بعد آتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسٹر کی ممکنہ اولین تاریخ 22 مارچ اور سب سے آخری تاریخ 25 اپریل ہوتی ہے۔
(The Catholic Encyclopedia, vol. 5, pp. 224, 225, 230, Published from New York 1913)
آزاد دائرۃ المعارف ویکی پیڈیا پر ایسٹر کی تفصیل میں ہے:
Easter is a Christian festival and cultural holiday commemorating the resurrection of Jesus from the dead, described in the Bible's New Testament as having occurred on the third day of his burial following his crucifixion by the Romans at Calvary c. 30 AD. It is the culmination of the Passion of Jesus, preceded by Lent, a 40-day period of fasting, prayer, and penance. Easter-observing Christians commonly refer to the last week of Lent, before Easter, as Holy Week, which in Western Christianity begins on Palm Sunday (marking the entrance of Jesus in Jerusalem), includes Spy Wednesday (on which the betrayal of Jesus is mourned), and contains the days of the Easter Triduum including Maundy Thursday, commemorating the Maundy and Last Supper, as well as Good Friday, commemorating the crucifixion and death of Jesus. … Easter celebrates Jesus' supernatural resurrection from the dead, which is one of the chief tenets of the Christian faith.
ترجمہ: ایسٹر ایک مسیحی تہوار اور ثقافتی عید ہے جو حضرت مسیح کی موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس کا ذکر بائیبل کے عہدِ جدید میں آیا ہے، اس طرح کہ یہ واقعہ تقریباً 30 سن عیسوی میں کلواری کے مقام پر رومیوں کے ہاتھوں انہیں مصلوب کیے جانے کے بعد تدفین کے تیسرے دن پیش آیا۔ یہ حضرت مسیح کے مصائب کا اختتام ہے، جس سے پہلے چالیس دنوں پر مشتمل روزے، دعا اور توبہ کا زمانہ لینٹ آتا ہے۔ ایسٹر منانے والے عیسائی عموماً لینٹ کے آخری ہفتے کو، جو ایسٹر سے پہلے ہوتا ہے، ہولی ویک کہتے ہیں، جو کہ مغربی مسیحیت میں Palm Sunday سے شروع ہوتا ہے جو حضرت مسیح کے یروشلم میں داخلے کی یاد دلاتا ہے، اس میں Spy Wednesday بھی شامل ہوتا ہے جس دن حضرت مسیح سے غداری کے واقعے کا سوگ منایا جاتا ہے اور یہ Easter Triduum کے (تین) ایام کو بھی شامل ہے، جن میں Maundy Thursday داخل ہے جو آخری عشائیے اور پاؤں دھونے کی رسم کی یادگار ہے، نیز Good Friday بھی شامل ہے جو سولی دئیے جانے اور ان کی موت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ایسٹر کا تہوار حضرت مسیح کے مردہ حالت سے ما فوق الفطرت دوبارہ زندہ ہو جانے کی خوشی منانا ہے، جو مسیحی ایمان کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1202
تاریخ اجراء: 03 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 20 مئی 2026ء