logo logo
AI Search

عدت میں ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کروانے جانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

عدت کے دوران ڈاکٹر کو چیک کرانے گھر سے باہر جانا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

شوہر کی وفات کی صورت میں عورت اگر حامِلہ ہو، تو اس کی عدت وضعِ حَمل یعنی بچہ پیدا ہونے تک ہے۔ لہٰذا آپ کی عدت وضعِ حمل تک ہے، جب بچے کی پیدائش ہوجائے، توآپ کی عدت ختم ہو جائے گی۔ نیز دورانِ عدت عورت کو بلاضرورتِ شرعیہ گھر سے باہر نکلنا حرام ہے لہٰذا عدت کے دوران عورت اگر بیمار ہو جائے اور ڈاکٹر کو گھر بلا کر چیک کرانا، ممکن ہو تو باہر لے جانا ناجائز ہے۔ ہاں ڈاکٹر گھر آکر چیک نہیں کرتا یا ضرورت ایسی ہے کہ گھر میں پوری نہیں ہو سکتی تو پردے کا خیال رکھتے ہوئے ڈاکٹر کو چیک کروانے کے لیے لے جانا، جائز ہے کہ یہ نکلنا ضرورتِ شرعی کی بنا پر ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی 
مصدق: مفتی فضیل رضاعطاری 
فتویٰ نمبر: Book-201