دو بیویاں عدت وفات کہاں گزاریں گی؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
دو بیویاں ہوں تو شوہر کے انتقال کے بعددونوں عدت کہاں گزاریں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں ہربیوی اسی گھرمیں عدت گزارے گی جو گھر شوہر نے اسے رہائش کے لیے دیا ہوا تھا۔ شوہر اگرچہ دوسری بیوی کے پاس رہتا تھا، مگر اس نے پہلی بیوی کو رہائش کے لیےالگ گھر لے کے دیا تھا، تو پہلی بیوی اپنی رہائش والے گھر میں ہی عدت گزارے گی، دوسری بیوی کے گھر میں جاکر عدت گزارنے کی اجازت نہیں ہے، شرعا یہ اس کے لیے ناجائز و گناہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور نہ وہ آپ نکلیں، مگریہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں۔ (پ 28، الطلاق: 1)
اس آیت کی تفسیرمیں تفسیرات احمدیہ میں ہے: ﴿مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ﴾ کے لفظ میں صراحت ہے کہ یہاں عورتوں کے گھروں سے مراد وہ گھر ہیں جس میں ان عورتوں کی رہائش ہو، لہٰذا اس آیت کی وجہ سے عورت پر لازم ہے کہ طلاق یا شوہر کی موت کے وقت، عدت اسی گھرمیں گزارے گی جو گھرعورت کی رہائش کی وجہ سے عورت کی طرف منسوب ہو۔ (تفسیرات احمدیہ، ص 496)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
مصدق: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
فتویٰ نمبر: Book-199