ظالم شوہر سے طلاق کے بعد بھی سوگ لازم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
ظالم شوہر سے تین طلاق ہونے کی صورت میں بھی سوگ واجب ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جس عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں تو اس عورت پر سوگ منانا واجب اور ضروری ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عورت کو جدائی کا غم ہے یا نہیں۔ بہرحال اس پر لازم ہے کہ دورانِ عدت سوگ منائے یعنی زینت اختیار نہ کرے اور جن کاموں سے دورانِ عدت شریعت نے منع کیا ہے ان کاموں سے بچے۔ کیونکہ عدت میں سوگ کے حکم کی وجہ صرف شوہر کی جدائی کا غم ہی نہیں اور بھی حکمتیں ہیں جو انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہے اور اسلام نام ہی اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کے حکم کے آگے بخوشی گردن جھکانے کا ہے اور دین اسلام کے کثیر احکامات ایسے ہیں جن میں عقل کو کچھ بھی دخل نہیں۔ مثلاً رمضان ہی کے روزے کیوں فرض ہوئے۔ نماز پانچ ہی کیوں ہیں اور ہر نماز کی رکعتوں کی مقدار خاص کیوں۔ حج کے لئے عرفات ہی میں کیوں جمع ہونا ہوتا ہے وغیرہ۔ لہٰذا مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے احکام پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے ان پر عمل کرے۔
عدت اور سوگ کے احکام سے متعلق مزید تفصیل کیلئے تفصیلی فتویٰ ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2513
تاریخ اجراء: 15 ربیع الآخر 1447ھ / 09 اکتوبر 2025ء