logo logo
AI Search

عدت میں باہر نکلنے سے عدت ٹوٹ جاتی ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

گھرسے باہر نکلنے پر عدت دوباره شروع سےکرنی ہوگی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری بہن کو تین طلاقیں ہوگئی ہیں، جس کی ابھی وہ عدت گزار رہی ہے۔ ایک دن وہ گھر سے نکل کر پاس ہی بھائی کے گھر کھانا کھانے چلی گئی، تو کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ عدت کے دوران گھر سے باہر نکلنے پر عدت ٹوٹ جاتی ہے، لہٰذا ان کو اب نئے سرے سے عدت کرنی ہوگی۔ اسی طرح کچھ لوگ چھت پر جانے سے بھی منع کرتے ہیں کہ آسمان کے نیچے نہیں جاسکتی اور بھائیوں سے بھی نہیں مل سکتی، شرعی رہنمائی فرما دیں کہ بہن عدت کے دوران باہر نکل سکتی ہے؟ نہیں نکل سکتی، تو کیا اب بہن کی عدت ٹوٹ گئی اور اب دوبارہ نئے سرے سے کرنی ہوگی؟ نیز چھت پر کھلے آسمان کے نیچے جاسکتی ہے؟

جواب

عدت ایک خاص وقت(Period)  کا نام ہے یعنی طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد عورت نے مخصوص ٹائم کچھ پابندیوں کےساتھ گھرپرگزارنا ہوتاہےاوراس ٹائم میں عورت کو بلاضرورت گھر سے باہرنکلنے کی اجازت نہیں ہوتی، اگر نکلے گی تو گنہگار ہوگی، اس سے بہت سختی سے منع کیا گیا ہے، لیکن اگر بلاضرورت گھر سے باہر نکل جائے، تو اس کی وجہ سے عدت پر اثر نہیں پڑتا، کہ عدت ٹوٹ جائے اور نئے سرے سے کرنی ہو، البتہ بلاضرورت گھر سے باہر نکلنے کی وجہ سے وہ گنہگار ہوئی، جس کی توبہ کرنا اس پر لازم ہے، نیز اپنے گھر کی ہی چھت ہو تو عدت کے دوران عورت چھت پر بھی جاسکتی ہے، اسی طرح اگر گھر کا صحن مشترک نہ ہو تو صحن میں بھی جاسکتی ہے، کھلے آسمان کے نیچے جانے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ چھت یا صحن وغیرہ میں جانے سے بےپردگی نہ ہوتی ہو اور بہن بھائیوں سے اپنی عدت والی جگہ پر ملنے میں کوئی حرج نہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: Book-205