عدت میں باہر نکلنے سے عدت ٹوٹ جاتی ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
گھرسے باہر نکلنے پر عدت دوباره شروع سےکرنی ہوگی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
عدت ایک خاص وقت(Period) کا نام ہے یعنی طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد عورت نے مخصوص ٹائم کچھ پابندیوں کےساتھ گھرپرگزارنا ہوتاہےاوراس ٹائم میں عورت کو بلاضرورت گھر سے باہرنکلنے کی اجازت نہیں ہوتی، اگر نکلے گی تو گنہگار ہوگی، اس سے بہت سختی سے منع کیا گیا ہے، لیکن اگر بلاضرورت گھر سے باہر نکل جائے، تو اس کی وجہ سے عدت پر اثر نہیں پڑتا، کہ عدت ٹوٹ جائے اور نئے سرے سے کرنی ہو، البتہ بلاضرورت گھر سے باہر نکلنے کی وجہ سے وہ گنہگار ہوئی، جس کی توبہ کرنا اس پر لازم ہے، نیز اپنے گھر کی ہی چھت ہو تو عدت کے دوران عورت چھت پر بھی جاسکتی ہے، اسی طرح اگر گھر کا صحن مشترک نہ ہو تو صحن میں بھی جاسکتی ہے، کھلے آسمان کے نیچے جانے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ چھت یا صحن وغیرہ میں جانے سے بےپردگی نہ ہوتی ہو اور بہن بھائیوں سے اپنی عدت والی جگہ پر ملنے میں کوئی حرج نہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Book-205