عدت میں عورت کا میلاد کے لیے دوسرے گاؤں جانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
عورت کاعدت کے دوران میلاد منانے دوسرے گاؤں جانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
آپ کی نانی عدت کے دوران عدت والےگھر سے نکل کر اپنے شوہر یعنی آپ کے نانا کے آبائی گاؤں میں، 12 ربیع الاول منانے کے لئے نہیں جا سکتیں، خواہ ان کو مکمل پردے میں ہی کیوں نہ لے جایا جائے، کیونکہ شرعی قوانین کے مطابق جو عورت عدت میں ہو، اس کا بغیر کسی شرعی ضرورت کے، اس گھر سے نکلنا حرام ہے، جس میں شوہر کی وفات کے وقت رہائش پذیر تھی، اور ربیع الاول کی محفل دوسرے گھر اٹینڈ کرنا کوئی شرعی ضرورت نہیں، کیونکہ ضرورت وہ ہوتی ہے، جس کے بغیر چارہ نہ ہو، لہذا عدت گزارنے والی عورت، عدت والےگھر ہی سے بارہ ربیع الاول کی خوشی میں ایصال ثواب کا اہتمام کرلے، اس کے لیے آبائی گاؤں ربیع الاول منانے کی غرض سے جانا جائز نہیں ہے۔
عدت والی عورت کا اپنے گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں، اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ﴾ ترجمہ: عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو! اور نہ وہ آپ نکلیں۔ (پارہ 28، سورۃ الطلاق، آیت 1)
مذکورہ آیت کے تحت تفسیر خازن میں ہے ”و لا يجوز للمرأة أن تخرج ما لم تنقض عدتها لحق اللہ تعالى فإن خرجت لغير ضرورة أثمت“ ترجمہ: اور معتدہ عورت کا باہر نکلنا جائز نہیں جب تک اس کی عدت پوری نہ ہو جائے؛اللہ پاک کے حق کی وجہ سے، پس اگر وہ بلاضرورت باہر نکلی تو گنہگار ہو گی۔ (تفسیر خازن، جلد 4، صفحہ 306، مطبوعہ: بیروت)
موت کے وقت شوہر نے عورت کو جس گھر میں رہائش دی ہو اسی میں عدت گزارنا لازم ہے، چنانچہ البحر الرائق میں ہے ”معتدة الطلاق و الموت يعتدان في المنزل المضاف إليهما بالسكنى وقت الطلاق و الموت و لا يخرجان منه إلا لضرورة“ ترجمہ: طلاق اور موت کی عدت گزارنے والیاں، اس گھر میں عدت گزاریں گی ،جو طلاق اور موت کےوقت بطور رہائش ان کی طرف منسوب ہو، (یعنی طلاق اور موت کے وقت اس میں رہائش پذیر ہوں) اور بلاضرورت اس گھر سے باہر نہیں نکلیں گی۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، جلد 4، صفحہ 259، مطبوعہ: کوئٹہ)
بلاعذر اس گھر سے نکلنا جائز نہیں؛ جیسا کہ رد المحتار میں ہے ”(و تعتدان) أي معتدة طلاق و موت (في بيت وجبت فيه) و لا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه“ ترجمہ: طلاق اور موت کی عدت گزارنے والیاں، اس گھر میں عدت گزاریں گی، جس میں عدت واجب ہوئی، اور وہ دونوں اس سے نہیں نکلیں گی، مگر یہ کہ اسے نکال دیا جائے، یا گھر گر جائے، یا اس کے گر جانے کا اسے خوف ہو، یا اسے اپنے مال کے تلف ہو جانےکا خوف ہو، یا وہ گھر کرائے کا ہو، اور اس کے پاس گھر کا کرایہ نہ ہو، یا اس کی مثل کوئی ضرورت درپیش ہو، تو اس کی وجہ سے اس جگہ سے قریب والی جگہ کی طرف نکلے گی۔ ( درمختار مع رد المحتار، جلد 5، صفحہ 229، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ’’موت یافُرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت (رہائش) تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیا ہے کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھر ہے اور اس گھر کو چھوڑ کر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کر سکتی مگر بضرورت، آج کل معمولی باتوں کو جس کی کچھ حاجت نہ ہو محض طبیعت کی خواہش کو ضرورت بولا کرتے ہیں وہ یہاں مراد نہیں بلکہ ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 8، صفحہ245، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5391
تاریخ اجراء: 24 ربیع الاول 1448ھ / 07 ستمبر 2026ء