طلاقِ رجعی کی عدت میں گھر سے نکلنا اور زینت کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
طلاقِ رجعی کی عدت میں گھر سے نکلنا اور زینت اختیار کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جی نہیں! یہ بات درست نہیں۔ شرعی حکم یہ ہے کہ طلاقِ رجعی کی عدت میں بھی عورت کو بلااجازتِ شرعی گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں۔
چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: جو عورت طلاقِ رجعی یا بائن کی عدت میں ہے ۔ ۔ ۔ یا خلع کی عدت میں ہو اگرچہ نفقۂ عدت پر خلع ہوا ہو یا اس پر خلع ہوا کہ عدت میں شوہر کے مکان میں نہ رہے گی تو ان عورتوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں نہ دن میں نہ رات میں جبکہ آزاد ہوں۔ (بہار شریعت، جلد 2، صفحہ 244، مکتبۃ المدینہ)
جہاں تک بات ہے طلاقِ رجعی کی صورت میں زینت اختیار کرنے کی تو اس میں بھی تفصیل ہے کہ اگر شوہر موجود ہو اور اس کے رجوع کرنے کی امید ہو، تو پھر زینت کی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر شوہر موجود نہ ہو، یا موجود تو ہو، لیکن رجوع کی امید نہ ہو، تو اب عورت زینت نہیں کرے گی۔
بہارِ شریعت میں ہے: طلاقِ رجعی کی عدت میں عورت بناؤ سنگار کرے جبکہ شوہر موجود ہو اور عورت کو رجعت کی امید ہو اور اگر شوہر موجود نہ ہو یا عورت کو معلوم ہو کہ رجعت نہ کریگا تو تزیُّن (بناؤ سنگھار) نہ کرے۔ (بہار شریعت، جلد2، صفحہ176، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2553
تاریخ اجراء: 29 ربیع الآخر 1447ھ / 23 اکتوبر 2025ء