جدہ سے حج کے لیے جائیں تو احرام باندھنے کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جدہ میں کام کر کے حج کے لیے جائیں تو احرام کہاں سے باندھے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں انڈیا میں ہوں، مجھے جدہ کسی کام سے تین دن کے لیے جانا ہے۔ پھر میرا وہاں سے حجِ افراد کرنے کا ارادہ ہے۔ کیا میں ڈائریکٹ حرم جاکر احرام باندھ لوں؟ کیا یہ ممکن ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کا اولا ارادہ جدہ جانے کا ہے اور پھر وہاں سے حج کرنے کا ارادہ ہے تو اس صورت میں میقات سے احرام باندھنا آپ پر لازم نہیں ہے لیکن جب آپ جدہ سے حج کے لیے نکلیں گے تو اب حرم میں پہنچ کر احرام نہیں باندھیں گے، بلکہ حرم سے پہلے احرام باندھنا ہوگا، اس کے لیے حرم سے باہر جہاں چاہیں، وہیں سے احرام باندھ سکتے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ جدہ جہاں کام سے جانا ہے، وہیں سے احرام باندھیں۔
المختارمیں ہے "و من كان داخل الميقات فميقاته الحل" ترجمہ: اور جو میقات کے اندر رہنے والا ہے، تو اس کی میقات حل ہے۔
اس کے تحت الاختیار لتعلیل المختار "الذي بين الميقات و بين الحرم" ترجمہ: حل سے مراد وہ جگہ ہے، جو میقات اور حرم کے درمیان ہے۔ (الاختیار مع المختار، کتاب الحج، مواقیت الحج المکانیۃ، ج 01، ص 142، مطبعۃ الحلبی، القاھرۃ)
بہارِ شریعت میں ہے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ میقات کے اندر کسی اور جگہ مثلاً جدّہ جانا چاہتا ہے تو اُسے احرام کی ضرورت نہیں۔
مزید لکھتے ہیں جو لوگ میقات کے اندر کے رہنے والے ہیں مگر حرم سے باہر ہیں اُن کے احرام کی جگہ حل یعنی بیرون حرم ہے، حرم سے باہر جہاں چاہیں احرام باندھیں اور بہتر یہ کہ گھر سے احرام باندھیں اور یہ لوگ اگر حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو بغیر احرام مکہ معظمہ جاسکتے ہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 06، صفحہ 1068، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1667
تاریخ اجراء: 03 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 23 مئی 2023ء